بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم
| لاگ ان | 31/08/2026 |
مریض کی موت کا سبب معلوم نہ ہونے کے وقت ضمان کا حکم
سوال
ایک ڈاکٹر صاحب کے ساتھ موجودہ سٹاف نے ایک بچے کو انجکشن لگوایا ، بعد میں وہ بچہ مرگیا ،لیکن یقینی معلوم نہیں کہ بچے کی وفات اس انجکشن کی وجہ سے ہے، یا اپنی بیماری کی وجہ سے ،نیز ہسپتال والوں کا کہنا ہے کہ اس بچے نے کچھ کھایا تھا،اس وجہ سے اس کی موت واقع ہوئی ، ڈاکٹرکا کہنا ہے کہ سٹا ف نے میرے کہنے کے بغیر یہ کام کیا ہے ، لیکن میں خود بھی یہ انجکشن لگوانے والا تھا مگر تھوڑی مقدار میں ، اب مذکورہ ڈاکٹر کے لیے کیا حکم ہے؟
جواب
واضح رہے کہ ڈاکٹر اگر ماہر حاذق ہو یعنی اپنے فن میں مہارت رکھتا ہو،اور اس کے ساتھ حکومت کی طرف سے جاری شدہ سند یا ڈگری موجود ہو اور وہ کسی مریض کے علاج کے لیے اس کوانجکشن لگوائے یا دوائی دے ،اور اس سے مریض کی موت واقع ہو جائے ،تو ڈاکٹر پر ضمان نہیں آئے گا ،بشرط یہ کہ دوائی دینے یا انجکشن لگوانے میں بے احتیاطی سے کام نہ لیا ہو ،لیکن اگر ڈاکٹر ماہر نہ ہو، یا اس کے ساتھ حکومت کی جانب سے جاری شدہ سند یا ڈگری موجود نہ ہو اور یاان چیزوں کے ہوتے ہوئے وہ بے احتیاطی سے کام لے ،تو یہ قتلِ خطا کے حکم میں آنے کی وجہ سے ڈاکٹرضامن ہوگا ،نیز اگر مریض کی موت کا سبب یقینی طور پر معلوم نہ ہوکہ انجکشن کی وجہ سے مرا ہے یا کسی مرض وغیرہ سے، تو پھر بھی ڈاکٹر ذمہ دار نہیں ہوتا۔
صورت مسئولہ میں اگر اس بچے کی موت کا سبب یقینی طور پر معلوم نہ ہو ،تو ڈاکٹر اور اس کے عملہ پر کوئی ضمان لازم نہیں البتہ اگر انجکشن لگوانے والے کے ساتھ متعلقہ ڈگری نہ ہو ،تو یہ قانوناً مجرم ہے اور اس کے خلاف کارروائی کی جاسکتی ہے ۔
[ اليقين لا يزول بالشك] اليقين لا يزول بالشك نعم لأن اليقين القوي أقوى من الشك فلا يرتفع اليقين القوي بالشك الضعيف، أما اليقين فإنما يزول باليقين الآخر.هذه المادة مأخوذة من قاعدة (ما ثبت بيقين لا يرتفع بالشك وما ثبت بيقين لا يرتفع إلابيقين).(دررالحكام شرح مجلة الأحكام،المادة:4،ج:1،ص:22)
الكحال إذا صب الدواء في عين رجل فذهب ضوءها لا يضمن كالختان إلا إذا غلط فإن قال رجلان إنه ليس بأهل وهذا من خرق فعله وقال رجلان هو أهل لا يضمن، وإن كان في جانب الكحال واحد وفي جانب الآخر اثنان ضمن وفي جنايات مجموع النوازل لو قال الرجل للكحال داو بشرط أن لا يذهب البصر فذهب البصر لا يضمن كذا في الخلاصة والله أعلم.(الفتاوى الهندية،كتاب الإجارة، الباب الثامن والعشرون،الفصل الثاني في المتفرقات،ج:4، ص:558)