بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم
| لاگ ان | 02/09/2026 |
قرآن کے بارے میں کفریہ کلمات کہنا
سوال
زینب اور مریم کے درمیان کسی بات پر جھگڑا ہوا۔زینب بار بارمریم سے کہہ رہی تھی کہ تم قرآن اٹھاؤ(ملحوظ ہو کہ قرآن وہاں پر موجود نہیں تھا)۔ جب زینب بار بار یہ کہہ رہی تھی تو مریم شدید غصہ تھی اس نے بے اختیار ہو کر کہا:اپنے آپ پر گھسادو("پہ زان یی ومنڈہ")(الفاظ نقل کرنے کیلئے معذرت)مریم کو خیال ہی نہ تھا کہ میں نے ایسا لفظ بولا ہے لیکن وہاں پر موجود چند عورتوں نے کہا کہ آپ نے ایسا کہا ہے ۔مریم سخت پریشان ہے اور اس نے توبہ بھی کی۔ تو اب سوال یہ ہے کہ کیا یہ قول کفریہ ہے ؟اور کیا ایسے میں تجدید ایمان اور تجدید نکاح لازم ہوگا؟
جواب
قرآن مجید اللہ تعالی کی آخری مقدس ترین کتاب ہے۔شعائراللہ میں ہونے کی وجہ سے فقہائے کرام نے اس کی تحقیر وتوہین کو موجب کفر قرار دیا ہے۔ صورت مسئولہ کے مطابق اگر اس عورت نے غصے کی حالت میں یہ الفاظ کہے ہوں تو اسکے لیے تجدید ایمان اور تجدید نکاح ضروری ہے۔
إذا أنكر الرجل آية من القرآن، أو تسخر بآية من القرآن أو عاب كفر. (الفتاوی الهندية، کتاب السير، الباب التاسع في أحکام المرتدين، مطلب موجبات الکفر أنواع منها مايتعلق بالإيمان والإسلام،ومنها مايتعلق با القرآن،ج:2،ص:279)