بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

لاگ ان 01/09/2026

دارالافتاء

 دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور
 

نشے کے عادی شخص کا غصہ کی حالت میں اپنی بیوی کو تین طلاق دینا


سوال

میں پچھلے13-14  سال سے  چرس کا عادی ہوں  اور نشہ کی ابتدا  اپنی  ذہنی سکون کے لیے کی، لیکن وقت گزرنے کے ساتھ عادت بن گئی اور ذہنی کیفیت بھی متا ثر ہونے لگی ۔اسی ذہنی حالت ،خاندانی کشمکش اور جذ باتی دباو کے زیرِ اثر رمضان المبارک کے مہینے میں 18مارچ 2025کو دفتر سے چھٹی کر کے جب میں گھر پہنچا او ر والدین کے پاس جا کرانہیں سلام کیا ،وہاں محلے کی ایک خاتون بھی تھی (جن سے خاندانی مراسم بھی ہیں )۔ اس روز میرا اپنے دوستوں کے ساتھ باہر افطاری پر جانے کا پروگرام تھا ۔میں نے سلام کے بعد والدہ سے پو چھا کہ سیخیں کہاں رکھی ہیں ۔ تو اس دوران اس خاتون نے مجھے والد کے سر پر سخت لہجے میں ڈانٹنا شروع کر دیا ۔ کہ تم والد کے پاس جا کرانہیں پو چھتے نہیں تمہیں قدر نہیں ۔ جیسا میں پہلے بتا چکا ہوں کہ والد کا بچپن سے سخت رویہ ہونے کی وجہ سے اور قربت نہ ملنے کی وجہ سے میں ان سے بات کرنے سے کتراتا  ہوں اور صرف ضرورت کی بات کرتا ہوں ۔میں روزے سے تھا اور پہلے ہی پریشان تھا اور مجھے اس خاتون کی وہ باتیں تنگ کر رہی تھی اور مجھے اپنی بے عزتی محسوس ہو رہی تھی لیکن میں خاموش تھا ااور مجھے شدید غصہ بھی ا ٓرہا تھا، غصے سے میری طبیعت بگڑنا شروع ہو گئی جس کے باعث میرا پورا بدن کانپنا شروع ہو گیا اور غصے میں ہمیشہ یہی کیفیت ہوتی ہے ۔ میں شدید غصے کی حالت میں پرسکون ہونے کے لیے گھر سے باہر نکل گیا ۔ کچھ دیر بعد میری  والدہ اور وہ خاتون گھر سے باہر آئیں  اور مجھے  دوبارہ ڈانٹا، جس سے میں مزید تعیش میں آگیا اور باہر گلی میں اس خاتون اور والدہ کے ساتھ تلخ کلامی ہوئی ۔ اس تلخ کلامی کے دورا ن مجھے صرف اتنایاد ہے کہ میں نے انہیں بولا کہ کیا آپ کو نہیں معلوم  کہ میرے والد کا رویہ میرے ساتھ ہمیشہ سے کیسے رہا ہے ۔ اس کے بعد میں نے کیا کیا بولا ،اس میں سے کچھ بھی میرے ذہن میں نہیں اور اسی  شدید غصے کی حالت میں گھر کی طرف بھاگا(میرے دماغ میں والد اور بیوی کی جانب سے میرے  ساتھ زندگی میں ہونے والے تمام سلوک گھوم رہے تھے )۔ جب گھر میں داخل ہوا تو میری بیوی جو اس سارے واقعے کے دوران چھت پر تھی اور ہمارا نہ کوئی سامنا ہوا تھا اور نہ اس وقت جھگڑا ہوا تھا ،وہ سیڑھی سے نیچے آرہی تھی۔اور میں نے بنا کچھ سوچے سمجھے غیر ارادی طور پر اسے طلاق کے الفاظ بول دیےجو کہ کچھ یوں تھےزہ تالہ اوس او دخکہ وختے طلاق راکوم  (تین بار بولا )۔یہ الفاظ اس وقت میں نے کیوں ادا کیے میں نہیں جانتا ۔شاید اس وقت میں نے دھمکانے کے لیے بولے ہوں ، لیکن خود پر اور اپنی زبان پر اختیار نہ ہونے کے باعث میرے منہ سے یہ الفاظ کسی اور انداز سے نکل گئے ۔ میں مکمل طور پر خود پر کنٹرول اور حواس کھو بیٹھا تھا۔اس واقعہ کے تین گواہ  موجود تھے۔ بعد میں گھر والوں سے شکوہ کرتا رہا کہ کوئی تو مجھے اس وقت روکتا ، میرے منہ پر ہاتھ رکھتا یا مجھے کچھ مار دیتا تا کہ میری زبان بند ہو جاتی لیکن اس وقت مجھے کوئی روک نہ پایا ،شاید یہ بہت جلدی میں ہوا تھا،جس کے بعد میں نے اپنی بیوی کو غلیظ گالیاں بھی دیں اور والد صاحب سے بھی تلخ کلامی ہوئی۔ یہ دونوں کام میں نے پہلے نہیں کیے تھے۔ کیا میری اس شدید ذہنی دباؤ کے دوران شدید غصے کی حالت میں ذہنی کیفیت کو مد نظر رکھتے ہوئے دی گئی طلاق واقع ہوئی یا نہیں؟ 

جواب

واضح رہے کہ کسی کے ہوش و حواس اس طرح معطل ہو جائیں کہ اس کو اتنا بھی معلوم نہ ہو کہ وہ کیا کہہ رہا ہے ؟کیا کر رہا ہے ؟ اور اس کے نتائج کیا ہوں گے ؟اور اسی اثنا اس کے دیگر اقوال و افعال بھی ایسے ہوں کہ جن سے واضح ہوتا ہو کہ یہ شخص اپنے ہوش و حواس میں نہیں ہے، تو ایسی صورت میں اگر وہ اپنی بیوی کو طلاق دے دے  تو طلاق وا قع نہ ہو گی ،لیکن اگر مذکورہ صورتِ حال نہ ہو اور طلاق دیتے وقت وہ اپنے قول و فعل کو سمجھ رہا ہو اور بعد میں اس کو واقعہ یاد بھی ہو، تو ایسی صورت میں اس کی طلاق واقع ہو گی۔

صورتِ مسئولہ میں محررہ بیان کے مطابق  شوہر کو  بیوی کے چھت پر ہونے کا علم اور پھر اس   کے سیڑھی  سے اترنے کی حالت کو بیان کرنے سے معلوم ہوتا ہے کہ اس کے ہوش و حواس ٹھیک  تھے۔ نیز سائل کی حالت ا ور کیفیت  کے متعلق  نفسیات  کے ماہر ڈاکٹر سے معلوم کیا گیا تو اس کی رائے کے مطابق بھی یہ حالت ایسی نہیں کہ اس میں ہوش و حواس معطل ہو کر اس کے اقوال و افعال کو نا اعتبار قرار دیا جائے ،لہذا سائل کے اقرار کے مطابق جب اس نے تین مرتبہ یہ الفاظ کہے ہیں کہزہ تالہ اوس او دخکہ وختے طلاق راکوم تو اس  کی بیوی پر تین طلاقیں واقع ہو گئی ہیں اور اس کے لیے حرام ہو چکی ہے۔

 

قال الله تعالى ﴿الطَّلَاقُ مَرَّتَانِ فَإِمْسَاكٌ بِمَعْرُوفٍ أَوْ تَسْرِيحٌ بِإِحْسَانٍ۔۔۔۔فَإِنْ طَلَّقَهَا فَلَا تَحِلُّ لَهُ مِنْ بَعْدُ حَتَّى تَنْكِحَ زَوْجًا غَيْرَهُ﴾۔(البقرة:229،230)

وأفتوا بوقوع الطلاق ممن زال عقله بها۔۔۔۔۔۔وفي هذا الزمان إذا سكر من البنج والأفيون يقع زجرا، وعليه الفتوى۔(رد المحتار على الدر المختار، كتاب الطلاق ،مطلب في تعريف السكران و حكمه ،ج:4،ص:446)

وإن كان الطلاق ثلاثا في الحرة أو ثنتين في الأمة لم تحل له حتى تنكح زوجا غيره نكاحا صحيحا ويدخل بها ثم يطلقها۔(الهداية، كتاب الطلاق ،باب الرجعة ،ج:3،ص:226)

وللحافظ ابن القيم الحنبلي رسالة في طلاق الغضبان قال فيها: إنه على ثلاثة أقسام: أحدها أن يحصل له مبادئ الغضب بحيث لا يتغير عقله ويعلم ما يقول ويقصده، وهذا لا إشكال فيه. والثاني أن يبلغ النهاية فلا يعلم ما يقول ولا يريده، فهذا لا ريب أنه لا ينفذ شيء من أقواله.الثالث من توسط بين المرتبتين بحيث لم يصر كالمجنون فهذا محل النظر، والأدلة على عدم نفوذ أقواله. اهـ. ملخصا من شرح الغاية الحنبلية، لكن أشار في الغاية إلى مخالفته في الثالث حيث قال: ويقع الطلاق من غضب خلافا لابن القيم اهـ وهذا الموافق عندنا لما مر في المدهوش،۔۔۔۔۔المراد بكونه لا يدري ما يقول أنه لقوة غضبه قد ينسى ما يقول ولا يتذكره بعد، وليس المراد أنه صار يجري على لسانه ما لا يفهمه أو لا يقصده إذ لا شك أنه حينئذ يكون في أعلى مراتب الجنون،۔۔۔۔وهو أنه قال في الولوالجية: إن كان بحال لو غضب يجري على لسانه ما لا يحفظه بعده جاز له الاعتماد على قول الشاهدين، فقوله لا يحفظه بعده صريح فيما قلنا۔(رد المحتار على الدر المختار، كتاب الطلاق ،مطلب :في طلاق المدهوش:ج:4،ص:452)


فتویٰ نمبر : 7150/297/324

دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور