بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم
| لاگ ان | 01/09/2026 |
رائج مصاحف ميں وقف النبی، کا لکھنا
سوال
برصغیر میں رائج مصاحف میں بعض مواقع پر" وقف النبی" لکھا ہوتا ہے ۔ عربی مصاحف میں غالبا یہ نہیں پایا جاتا، اس کا مطلب یہ بتایا جاتا ہے کہ یہاں وقف کرنا حضرت محمد خاتم النبیین ﷺ کی سنت ہے۔ کیا اس کی کوئی سند ہے؟اور اگر "وقف النبی" کی سند موجود نہیں تو اس وقف کا لگانا مصاحف میں درست ہے يا نہیں؟
جواب
احادیثِ مبارکہ میں منقول ہے کہ نبی کریم ﷺ ٹھہر ٹھہر کر تلاوتِ قرآن فرمایا کرتے تھے، اورہر آیت پر وقف کرتے تھے، اس لیے ایسے انداز میں تلاوت قرآن سنت ہے، علماء امت نے عجمیوں کی آسانی کے لیے آیات کے درمیان ٹھہرنے کے مناسب مقامات کی کچھ رموز کے ذریعے نشاندہی کی ہے ان میں سے اکثر رموز علامہ محمد بن طیفور سجاوندی ؒ نے وضع کیے ہیں، ان جگہوں پر وقف کرنا مستحسن ہے، لیکن کسی خاص جگہ پر وقف کو "وقف النبی" کہنے کی کوئی سند ہمیں معلوم نہ ہو سکی، چنانچہ حضرت مولانا اشرف علی تھانویؒ بھی اس کے بارے میں فرماتے ہیں کہ "اس کی کوئی سند مجھے نہیں ملی"۔ (ملفوظات حکیم الامت، ج:14، ص:108)
عن أم سلمة قالت: كان رسول الله صلى الله عليه وسلم إذا قرأ قطع قراءته آية آية {بسم الله الرحمن الرحيم} {الحمد لله رب العالمين} {مالك يوم الدين}. ( مسند أبي يعلی، رقم الحديث:7022، مسند أم سلمة، ج:12، ص:451)
لما لم يمكن للقارئ أن يقرأ السورة، أو القصة في نفس واحد ولم يجر التنفس بين كلمتين حالة الوصل، بل ذلك كالتنفس في أثناء الكلمة وجب حينئذ اختيار وقف للتنفس والاستراحة وتعين ارتضاء ابتداء بعد التنفس والاستراحة، وتحتم أن لا يكون ذلك مما يخل بالمعنى ولا يخل بالفهم، إذ بذلك يظهر الإعجاز ويحصل القصد.( النشر في القراءات العشر،ج:1، ص:177)
وكذلك عد بعضهم الوقف على رءوس الآي في ذلك سنة، وقال أبو عمرو: وهو أحب إلي واختاره أيضا البيهقي في شعب الإيمان، وغيره من العلماء وقالوا: الأفضل الوقوف على رءوس الآيات، وإن تعلقت بما بعدها. قالوا: واتباع هدي رسول الله صلى الله عليه وسلم وسنته أولى، وإن لم يتم الكلام كان الوقف عليه اضطراريا، وهو المصطلح عليه (بالقبيح) لا يجوز تعمد الوقف عليه إلا لضرورة من انقطاع نفس ونحوه لعدم الفائدة، أو لفساد المعنى.( النشر في القراءات العشر، ج:1، ص:178)