بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم
| لاگ ان | 01/09/2026 |
مردوں کا قبر وں میں قبلہ سے منہ پھرنے، سے متعلق حدیث کی تحقیق
سوال
کیا فرماتے ہیں مفتیان کرام اس مسئلہ کے بارے میں کہ وہ کون سے سات افراد ہیں، جن کو قبر میں رکھنے کے بعد ان کےچہرے قبلے سے پھیر دیے جاتےہیں، اور کن اعمال کی وجہ سے پھیر دیے جاتےہیں؟ اس بارے میں حضرت علی رضی اللہ تعالی عنہ کی طرف ایک حدیث منسوب ہے : حضرت علی رضی اللہ تعالی عنہ سے روایت ہے کہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: سات ایسے اشخاص ہیں، جنہیں تم قبر میں دفن کرو گے، تو ان کے رخ قبلہ سے پھیر دیے جائیں گے ،نیز فرمایا :"کہ جاؤ جا کر قبریں اکھیڑ کر دیکھ لو، اگر ایسا نہ پاؤ جیسا کہ میں نے کہا تو کہہ دینا میں نے غلط کہا " ۔ ان سات میں سے پہلا :شارب الخمر ،دوسرا :انسانوں کی خریدو فروخت کرنے والا، تیسرا :جھوٹی گواہی دینے والا، چوتھا: سود کھانے والا، پانچواں: فوتگی پر نوحہ کرنے والی عورت ،چھٹا: ذخیر اندوزی کرنے والا ،ساتواں :بغیر جماعت کے نماز پڑھنے والا"یہ حدیث صحیح ہے یا نہیں رہنمائی فرمائیں؟
جواب
واضح رہے رسول اللہ ﷺ پر قصداًجھوٹ باندھنایا آپ ﷺ کی طرف من گھڑت حدیثوں کی نسبت کرنا سنگین جرم اور بد ترین گناہ ہے، جس کے متعلق احادیث مبارکہ میں بڑی وعیدیں وارد ہوئی ہیں ۔
سوال میں مذکور حدیث تلاش کے باوجود مستند کتب احادیث میں نہیں ملی ۔آپﷺ سے قبر کے عذاب سے متعلق دیگر مستند احادیث موجود ہیں ،لیکن کوئی ایسی حدیث نہیں ملی، جس میں ان مخصوص افراد کا ذکر کیاگیاہو۔ لہذا جب تک حدیث کی کسی معتبرکتاب میں اس کا ثبوت نہ ملے،تو اس کے بیان کرنے سے احتراز ضروری ہے۔
أخبرني منصور، قال: سمعت ربعي بن حراش، يقول: سمعت عليا، يقول: قال النبي صلى الله عليه وسلم: «لا تكذبوا علي، فإنه من كذب علي فليلج النار.(أخرجه البخاري، کتاب العلم، باب إثم من كذب على النبيﷺ،رقم الحديث:106، ج:1، ص:41)
عن أبي هريرة رضي الله عنه ، قال: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم:« من كذب علي متعمدا، فليتبوأ مقعده من النار.(مقدمة مسلم، باب تغليظ الكذب على رسول اللهﷺ، رقم الحديث:4، ج:1، ص:67)