بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم
| لاگ ان | 01/09/2026 |
شوہر کا طلاق سے انکار کی صورت میں عورتوں کی گواہی کا حکم
سوال
اگر شوہر طلاق سے منکر ہواورصرف تین عورتیں گواہی دیں تو ان کی گواہی کا اعتبار ہوگا یا نہیں؟
جواب
واضح رہے کہ طلاق ،نکاح اور وکالت جیسے معاملات کے ثبوت کے لیے دو عادل مرد یا ایک مرد اور دو عورتوں کی گواہی ضروری ہے، صرف عورتوں کی گواہی معتبر نہیں۔لہذا صورت مسئولہ کے مطابق اگر شوہر طلاق سے منکر ہو اور صرف عورتیں گواہی دیں تو چونکہ گواہی کا نصاب مکمل نہیں لہذا ان کی گواہی کا اعتبار نہ ہوگا ۔
(و) نصابها (لغيرها من الحقوق سواء كان) الحق (مالا أو غيره كنكاح وطلاق ووكالة ووصية واستهلال صبي) ولو (للإرث رجلان) إلا في حوادث صبيان المكتب فإنه يقبل فيها شهادة المعلم منفردا قهستاني عن التجنيس (أو رجل وامرأتان) ولا يفرق بينهما {فتذكر إحداهما الأخرى} [البقرة: 282] ولا تقبل شهادة أربع بلا رجل لئلا يكثر خروجهن، وخصهن الأئمة الثلاثة بالأموال و توابعها. (ردالمحتار على الدرالمختار، كتاب الشهادات، ج:5،ص:465)