بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

لاگ ان 31/10/2026

دارالافتاء

 دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور
 

تین مرتبہ اپنی بیوی سے "آپ پر ایک طلاق"کہنے کے بعد "گھر سے چلی جاؤ"کہنے سے طلاق کا حکم


سوال

اگر کوئی شخص  اپنی بیوی سے کہے کہ "آپ پر ایک طلاق، آپ پر ایک طلاق، آپ پر ایک طلاق" اور پھر کہے "گھر سے چلی جاؤ" تو اس سے کتنی طلاقیں واقع  ہوں گی؟

جواب

اگر کوئی شخص اپنی بیوی کو طلاق کے صریح الفاظ کہے تو یہ طلاق ہر حال میں واقع ہوجاتی ہے،چاہے اس نے طلاق کی نیت کی ہو یا نہ کی ہو۔  نیزصریح الفاظ میں تکرار سے غرض اگر تاکید ہو تو دیانۃً  ایک  طلاق شمار  ہوگی،ورنہ متعدد طلاقیں واقع ہوں گی۔

 لہذا صورت مسئولہ کے مطابق  اگر  کسی شخص نے  تین  مرتبہ اپنی بیوی سے یہ کہا ہو کہ "آپ پر ایک طلاق" اور پھر کہا "گھر سے چلی جاؤ" تو اگر تین مرتبہ دہرانے سے  مقصود تاکید ہو ،دوسری اور تیسری طلاق دینا مقصود نہ ہوتو دیانۃً ایک طلاق واقع ہوگی۔اور" گھر سے چلی جاؤ " کنائی لفظ ہے  اس سے  اگر طلاق کی نیت ہو  تو طلاق بائن واقع ہوگی ورنہ نہیں ۔اور اگر "آپ پر ایک طلاق " کے الفاظ تین مرتبہ دہرانے سے  دوسری  اور تیسری  طلاق دینا مقصود ہو تو تین طلاقیں  واقع ہوکر  عورت مطلقہ مغلظہ ہوگی۔

 

الطلاق على ضربين صريح وكناية فالصريح قوله أنت طالق ومطلقة وطلقتك فهذا يقع به الطلاق الرجعي " لأن هذه الألفاظ تستعمل في الطلاق ولا تستعمل في غيره فكان صريحا... " ولا يفتقر إلى النية " لأنه صريح فيه لغلبة الاستعمال.(الهداية،كتاب الطلاق،باب إيقاع الطلاق،ج:3،ص:143)

كررلفظ الطلاق وقع الكل، وإن نوى التاكيد دين.قال ابن عابدين رحمه الله:قوله:(وإن نوى التاكيد دين) أي وقع الكل قضاء.(ردالمحتار على الدر المختار،كتاب الطلاق،باب طلاق غير المدخول بها،ج:4،ص:521)


فتویٰ نمبر : 7143/297/324

دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور