بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

لاگ ان 01/09/2026

دارالافتاء

 دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور
 

شدت شہوت کے وقت منی خارج کرنا


سوال

میری شادی ہو چکی ہے اور میں اپنی بیوی سے دور رہتا ہوں اور بات کرتے وقت شہوت بہت زیادہ ہو جاتی ہے جس کی وجہ سے میں اپنے ذکر کو بستر پر دبا دیتا ہوں یابستر پر دبائے بغیر  منی خارج ہو جاتاتی ہے تو کیا ایسا کرنا مشت زنی میں داخل ہے یا نہیں ؟

جواب

واضح رہےکہ ہاتھ کےذریعے سے جان بوجھ کر انزال کرنا"مشت زنی" کہلاتا ہے،  اسی طرح اگر کوئی جان بوجھ کر اپنی شہوت کو ابھارنے کے لیے عضو کو رگڑدے یا دبائے (چاہے ہاتھ سے ہو یا بستر یا کپڑوں سے) اور انزال ہو جائے، تو یہ بھی" مشت زنی" کے حکم میں داخل ہے۔

لہذاصورت مسئولہ میں اس  طرح کرنے کی شرعااجازت نہیں ہے۔البتہ اگر زنا یا فحاشی میں پڑنے  کا خوف ہوتو پھر اس طریقےسے  شہوت کی تسکین  کی  گنجائش ہے۔

 

قال الله تبارك وتعالی:﴿وَٱلَّذِينَ هُمۡ لِفُرُوجِهِمۡ حَٰفِظُونَ 5 إِلَّا عَلَىٰٓ أَزۡوَٰجِهِمۡ أَوۡ مَا مَلَكَتۡ أَيۡمَٰنُهُمۡ فَإِنَّهُمۡ غَيۡرُ مَلُومِينَ﴾ [المؤمنون: 5-،6] 

«‌ويدل ‌أيضا ‌على ‌ما ‌قلنا ‌ما ‌في ‌الزيلعي ‌حيث ‌استدل ‌على ‌عدم ‌حله ‌بالكف ‌بقوله ‌تعالى {‌والذين ‌هم ‌لفروجهم ‌حافظون} [‌المؤمنون: 5] ‌الآية ‌وقال ‌فلم ‌يبح ‌الاستمتاع ‌إلا ‌بهما ‌أي ‌بالزوجة ‌والأمة،‌فأفاد ‌عدم ‌حل ‌الاستمتاع ‌أي ‌قضاء ‌الشهوة ‌بغيرهما ‌هذا ‌ما ظهر لي والله سبحانه أعلم.»(رد المحتار علی الدرالمختار، کتاب الصوم، باب مایفسد الصوم وما لا یفسدہ، ج: 2، ص:399)

(وكذا الاستمناء بالكف وإن كره تحريما لحديث «ناكح اليد ملعون» ولو خاف الزنى يرجى أن لا وبال عليه.)...وفي السراج إن أراد بذلك تسكين الشهوة المفرطة الشاغلة للقلب وكان عزبا لا زوجة له ولا أمة أو كان إلا أنه لا يقدر على الوصول إليها لعذر قال أبو الليث أرجو أن لا وبال عليه وأما إذا فعله لاستجلاب الشهوة فهو آثم اهـ. (رد المحتار علی الدرالمختار،کتاب الصوم، باب ما یفسد الصوم وما لا یفسدہ، ج:2، ص:399)


فتویٰ نمبر : 6249/297/328

دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور