بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

لاگ ان 31/08/2026

دارالافتاء

 دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور
 

معذور شخص کی اقتدا میں نماز پڑھنا


سوال

میری فراغت ہونے والی ہے مدرسہ سے ،گاؤں والے میرے انتظار میں ہیں میری امامتی کے لیے ،ابھی جو شخص امام ہے وہ عارضی ہے ان سے بھی  گاؤں والوں نے بات کی ہے کہ میں جب جاؤں گا تو وہ میرے لیے امامتی چھوڑے گا ،لیکن مجھے ریح کی ایسی بیماری ہے کہ مسلسل خارج ہوتی ہے ،اس کے لیے میں علاج کررہاہوں ،ڈاکٹر کا کہنا ہے کہ آپ ٹھیک ہو جاؤگے، میں نے گاؤں والوں کے سامنے اپناعذر پیش کیا، لیکن وہ مانتے نہیں ،میرے والد صاحب بھی ان کے ساتھ کھڑے ہیں تو کیاایسی صور ت میں میرے لیے امام بننا جائز ہے یا نہیں؟

جواب

واضح رہے کہ شرعی طور پر معذور شخص کے لیے عذر کی حالت میں غیر معذور صحت مند لوگوں کی امامت کرانا جائز نہیں ہے کیونکہ امامت کے لیے شرط یہ ہے ،کہ امام کی حالت یا تو مقتدیوں سے اقوی واعلی ہو یا کم از کم مقتدیوں کی حالت کے برابرہو جبکہ غیر معذور لوگوں کی  حالت طہارت کے اعتبار سےمعذور سے  قوی اور اعلی  ہوتی ہے  ۔

صورت مسئولہ میں ہوا خارج ہونے کی  بیماری میں مبتلا شخص اگر شرعا معذور کے درجہ میں ہو یعنی اس پر کسی نماز کا وقت اس طرح گزر چکا ہو کہ مسلسل ریح خارج ہورہی ہو اور اتنا وقت بھی نہ ملاہو کہ جس میں پاکی کی حالت میں صرف فرض پڑھ سکے تو وہ شرعا معذور ہوگا،لہذا اس  کے لیے غیر معذور لوگوں کی امامت جائز نہیں ،اگر غیر معذور لوگوں نے معذور کی اقتدا میں نماز پڑھی ،تو ان کی نماز ادا نہیں ہوگی ،البتہ جب صحت یاب ہوجائے تو پھر اس کی اقتدا میں نمازپڑھنا جائز ہے ۔لہذا جب تک معذور ہے اس کا امام بننا درست نہیں۔

 

(‌قوله ‌وكونه ‌مثله أو دونه فيها) أي في الأركان؛ مثال الأول اقتداء الراكع والساجد بمثله والمومئ بهما بمثله؛ ومثال الثاني اقتداء المومئ بالراكع والساجد، واحترز به عن كونه أقوى حالا منه فيها كاقتداء الراكع والساجد بالمومئ بهما .( رد المحتار على الدر المختار،باب الامامة،ج:1،ص:551)

(وكذا لا يصح الاقتداء بمجنون مطبق أو متقطع في غير حالة إفاقته وسكران) أو معتوه ذكره الحلبي (ولا طاهر بمعذور) هذا (إن قارن الوضوء الحدث أو طرأ عليه) بعده (وصح لو توضأ على الانقطاع وصلى كذلك) كاقتداء بمفتصد أمن خروج الدم؛ وكاقتداء امرأة بمثلها، وصبي بمثله، ومعذور بمثله وذي عذرين بذي عذر، لا عكسه كذي انفلات ريح بذي سلس لأن مع الإمام حدثا ونجاسة.( رد المحتارعلى الدر المختار،باب الإمامة،ج:1،ص:578)

و صاحب عذر من به سلس بول لا يمكنه إمساكه او استطلاق بطن او انفلات ريح... إن استوعب عذره تمام وقت صلاة مفروضة بان لا يجد في جميع وقتها زمناً يتوضؤ و يصلي فيه خالياً عن الحدث ولو حكماً ؛ لان الانقطاع اليسير ملحق بالعدم۔ (رد المحتار علی الدرالمختار،باب الحيض: مطلب في احكام المعذور ،ج:1،ص:305)


فتویٰ نمبر : 10433/297/321

دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور