بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم
| لاگ ان | 02/09/2026 |
طلاق کے بعد بیوی کا شوہر سے مہر کا مطالبہ کرنا
سوال
میاں بیوی کے درمیان لڑائی کی وجہ سے طلاق ہوگئی شوہر نے ابھی تک اس کا مہر ادا نہیں کیا جبكہ عورت مہر کا مطالبہ کررہی ہے ، شوہر انکار کررہاہے اور کہتا ہےکہ جس طرح ہمارے درمیان رشتہ ختم ہوا اسی رشتےکے ساتھ مہر کا قصہ بھی ختم ہوا ،کیا اب شوہر پر مہر ادا کرنا لازم ہے ؟
جواب
مہر بیوی کاحق ہے،اور اس کی ادائیگی شوہر پرلازم ہے۔لہذا اگر کسی شخص نے اپنی بیوی کو خلوت صحیحہ (بغیر کسی مانع ِجماع کے تنہائی میں ملاقات)سے پہلے طلاق دے دی تواس پرنصف مہر لازم ہوگا، لیکن اگر خلوت صحیحہ کے بعد طلاق دے دی تواس پر پورا مہر لازم ہوگا۔
صورت مسئولہ کے مطابق طلاق کے بعد بیوی شوہر سے مہر کا مطالبہ کرسکتی ہےاورشوہر پر واجب ہے کہ وہ اس کو مہرادا کرے۔طلاق دینے سے رشتہ ختم ہوجاتا ہے لیکن مہر جو ادا نہ کیا ہو وہ ذمے پر باقی رہتا ہے۔
وإذا خلا الرجل بامرأته، و ليس هناك مانع من الوطئ، ثم طلقها فلها كمال المهر.(الهداية، كتاب النكاح، باب المهر، ج:2، ص:347)
(و) يجب (نصفه بطلاق قبل وطء أو خلوة) فلو كان نكاح على ما قيمته خمسة كان لها نصفه ودرهمان ونصف.(ردالمحتار علی الدر المختار،ج:3،ص:104)