بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم
| لاگ ان | 02/11/2026 |
تھوڑا تھوڑا کر کے زکوۃ ادا کرنا
سوال
کیا ہم سالانہ زکوۃ کا حساب کرنے کے بعد زکوۃ کی رقم علیحدہ کرکے زکوۃ دیں یا حساب سے پہلے یا بعد میں مختلف مہینوں میں زکوۃ تھوڑا تھوڑا کرکے ادا کریں تو یہ جائز ہے؟
جواب
اگر کوئی صاحب نصاب شخص سالانہ کازکوۃ حساب کرنے کے بعد یا حساب سے پہلے تھوڑا تھوڑا کر کے زکوۃ ادا کر لے تو یہ جائز ہے کیوں کہ یک مشت زکوۃ ادا کرنا ضروری نہیں۔
لہذا صورتِ مسئولہ میں اگر کوئی شخص سالانہ حساب سے پہلے یا بعد میں مختلف مہینوں میں زکوۃ ادا کرلے تو زکوۃ ادا ہوجائے گی۔
ف ( تجب) زكاتها إذا تم نصابا وحال الحول، لكن لا فورا بل (عند قبض أربعين درهما من الدين) القوي كقرض (وبدل مال تجارة) فكلما قبض أربعين درهما يلزمه درهم (الدرالمختار على صدر ردالمحتار، كتاب الزكوة ، باب زكوة المال ، ج:1 ، ص:236)
(قوله وافتراضها عمري) قال في البدائع وعليه عامة المشايخ، ففي أي وقت أدى يكون مؤديا للواجب، ويتعين ذلك الوقت للوجوب.(رد المحتار على الدر المختار، كتاب الزكوة، ج:1، ص:271)