بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم
| لاگ ان | 01/09/2026 |
ولی کی اجازت کے بغیر نکاح کرنا
سوال
جب کوئی عاقلہ بالغہ لڑکی خود اپنا نکاح والدین کی اجازت کے بغیر کسی مسلمان مرد سے گواہوں کے سامنے اپنی مرضی سے کر دے ، تو کیا اس لڑکی کا یہ نکاح شرعی لحاظ سے درست ہے یا نہیں ؟ نکاح اگر درست ہوا، تو کیا والدین کو پتہ لگنے کی بعد اس لڑکے سے طلاق دلوا نے پراور جلا وطن کرنے پر مجبور کر سکتے ہیں؟ اور ان لوگوں کا اس لڑکے اور اس کی فیملی کو جلا وطن کرنا شرعی لحاظ سےکیا درست ہے؟
جواب
اس میں کوئی شک نہیں کہ نکاح کا دارومدار بالغ لڑکےاور لڑکی کی رضامندی پر ہے، دونوں پر کسی قسم کا جبر نہیں کیا جاسکتا، تاہم چوری چھپکے نکاح کرنے کی شریعت حوصلہ افزائی نہیں کرتی، والدین اور خاندان کو بے خبر رکھ کر لڑکا لڑکی کاکسی سے نکاح پڑھوانا شرعاً و اخلاقا مذموم سمجھا جاتاہے،کیوں کہ اس سے ایسے مسائل و مشکلات پیدا ہو جاتے ہیں جن کی وجہ سے نکاح کے مقاصد حاصل نہیں ہوسکتے،اس وجہ سے رسول اللہ ﷺ نے علی الاعلان نکا ح کرنے، مسجد میں کرنے ،اور لوگوں کو خبر دینے کا حکم دیا ہے، تاکہ شکوک و شبہات باقی نہ رہیں، اور نکاح میں کسی قسم کا ابہام نہ ہو۔ البتہ اگرعاقل و بالغ لڑکا اور لڑکی گواہوں کی موجودگی میں باہمی رضامندی سے نکاح کریں اور اس کے بعد والدین کو پتہ چل جائے تو غیر کفو میں نکاح کرنے کی صورت میں لڑکی کے اولیاء کو فسخ ِنکاح کا دعوٰی دائر کرنے کا اختیا ر حاصل ہوتا ہے۔ البتہ لڑکے کو طلاق دلوانے پر مجبور کرنا اور جلا وطن کرنا درست نہیں۔
عن محمد بن حاطبؓ، قال:قال رسول الله صلى الله عليه وسلم: «فصل بين الحلال والحرام، الدف والصوت في النكاح»(جامع الترمذي، کتاب النکاح، باب ما جاء في إعلان النکاح،ج:1،ص:334)
عَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم: «أَعْلِنُوا هَذَا النِّكَاحَ، وَاجْعَلُوهُ فِي المَسَاجِدِ، وَاضْرِبُوا عَلَيْهِ بِالدُّفُوفِ»(جامع الترمذي، باب ما جاء في إعلان النکاح،ج:1،ص:334)
ينعقد بالإيجاب والقبول وضعا للمضي أو وضع أحدهما للمضي والآخرلغيره مستقبلا كان كالأمرأو حالا كالمضارع۔(الفتاوی الھندیة،کتاب النکاح،ج:1،ص:335)
قال رحمه الله (من نكحت غير كفء فرق الولي) لما ذكرنا والنكاح ينعقد صحيحا في ظاهر الرواية وتبقى أحكامه من إرث وطلاق إلى أن يفرق الحاكم بينهما۔(تبیین الحقائق شرح کنز الدقائق مع حاشیۃ الشلبي،كتاب النكاح،باب الأولياء و الأكفاء،ج:2،ص:128)