بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم
| لاگ ان | 01/09/2026 |
"پتہ نہیں اللہ کو اس میں ایسا کیا دکھا کہ اس کو اس کام سے جوڑا ہوا ہے" کہنے کا حکم
سوال
میرےدو دوستوں کی آپس میں لڑائی ہوگئی ان میں سے ایک نے کہا: "پتہ نہیں اللہ کو اس میں ایسا کیا دکھا کہ اس کو اس کام سے جوڑا ہوا ہے" بعد میں وہ اپنے اس جملے پر بہت پشیمان ہوا، کہ کہیں وہ اپنا ایمان نہ کھو بیٹھا ہو پو چھنا یہ ہے کہ کیا یہ الفاظ کفریہ ہیں؟ اگر کفریہ ہیں تو کیا کہنے والےپر ایمان اور نکاح کی تجدید ضروری ہے؟
جواب
واضح رہے کہ ہر مسلمان پر یہ عقیدہ رکھنا لازم ہے کہ اللہ تعالیٰ کی ذات علیم وحکیم ہے، یعنی ہر چیز سے باخبر ہے اور اس کا ہر کام حکمت پر مبنی ہوتا ہے، اس کے خلاف عقیدہ رکھنا کفر ہے۔
صورت مسئولہ میں مذکورجملہ "پتہ نہیں اللہ کو اس میں ایسا کیا دکھا کہ اس کو اس کام سے جوڑا ہوا ہے"میں چونکہ قائل (کہنے والے) نے اس جملے میں لاعلمی کی نسبت اپنی طرف کی ہے، لہذا اس جملے سے کفر لازم نہیں آتا، تاہم آئندہ اس طرح کا جملہ کہنے سے حتی الإمکان اجتناب لازم ہے۔
(ومنها ما يتعلق بذات الله تعالى وصفاته وغير ذلك) يكفر إذا وصف الله تعالى بما لا يليق به، أو سخر باسم من أسمائه، أو بأمر من أوامره، أو نكر وعده ووعيده، أو جعل له شريكا، أو ولدا، أو زوجة، أو نسبه إلى الجهل، أو العجز، أو النقص ويكفر بقوله :يجوز أن يفعل الله تعالى فعلا لا حكمة فيه، ويكفر إن اعتقد أن الله تعالى يرضى بالكفر كذا في البحر الرائق..."۔(الفتاوى الهندية، كتاب السير، الباب التاسع في أحكام المرتدين، ج:2، ص:258)
إذا كان في المسألة وجوه توجب الكفر، ووجه واحد يمنع، فعلى المفتي أن يميل إلى ذلك الوجه كذا في الخلاصة في البزازية إلا إذا صرح بإرادة توجب الكفر، فلا ينفعه التأويل حينئذ كذا في البحر الرائق، ثم إن كانت نية القائل الوجه الذي يمنع التكفير، فهو مسلم، وإن كانت نيته الوجه الذي يوجب التكفير لا تنفعه فتوى المفتي، ويؤمر بالتوبة، والرجوع عن ذلك وبتجديد النكاح بينه، وبين امرأته كذا في المحيط"۔(الفتاوى الهندية، كتاب السير، الباب العاشر في البغاة، ج:2، ص:283)