بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم
| لاگ ان | 30/08/2026 |
حالت تشہد میں ہاتھوں کی انگلیوں کا گھٹنوں سے آگے بڑھنا
سوال
التحیات میں بیٹھے ہوئے کسی شخص کی نگلیاں اگرگھٹنوں سے آگے بڑھ جائیں تو لوگوں میں مشہور ہے کہ قیامت میں آگے بڑھی ہوئی انگلیاں کاٹ دی جائیں گی،شرعی لحاظ سے انگلیاں آگے بڑھ جائیں تو کوئی حرج تو نہیں؟
جواب
قعدہ میں ہاتھ رکھنے کا افضل اور بہتر طریقہ یہ ہے کہ ان کو ران پر اس طرح رکھاجائےکہ گھٹنے کی ابتدا تک انگلیاں آجائیں اور ان کارخ قبلہ کی جانب ہوجائے، ہاتھوں سے گھٹنوں کو اس طرح نہ پکڑا جائے کہ انگلیوں کا رخ زمین کی طرف ہوجائے۔تاہم گھٹنوں سے آگے بڑھنے کی صورت میں انگلیوں کا قیامت کے دن کاٹا جانا کسی دلیل شرعی سے ثابت نہیں ، لہذااس قسم کی باتوں سے اجتناب کرنا لازم ہے۔
"ويضع يمناه على فخذه اليمنى ويسراه على اليسرى، ويبسط أصابعه) مفرجة قليلا (جاعلا أطرافها عند ركبتيه) ولا يأخذ الركبة، هو الأصح لتتوجه للقبلة"..."(قوله ولا يأخذ الركبة) أي كما يأخذها في الركوع؛ لأن الأصابع تصير موجهة إلى الأرض خلافا للطحاوي، والنفي للأفضلية لا لعدم الجواز كما أفاده في البحر". (ردا المحتار على الدر المختار، كتاب الصلاة، باب صفة الصلاة، ج:1، ص:508)