بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم
| لاگ ان | 01/09/2026 |
مساجد میں چندہ مانگنا
سوال
مساجد میں مدارس یا تنظیمات وغیرہ کا چندہ مانگنا کیسا ہے ؟
جواب
واضح رہے کہ چندہ کا معنیٰ ہے" کسی کا رِ خیرکےلیے لوگوں کو صدقہ کی ترغیب دے کر ان سے رقم اکٹھا کرنا"،مختلف مواقع پر نبی کریم ﷺ کی طرف سےچندے کا اعلان اور بعض مواقع پر آپ ﷺ کا خود مسجد میں امداد جمع کرنا منقول ہے ،جیسے غزوہ تبوک کے موقع پر، اورایک ضرورت مند قبیلے کے وفد کی آمد کے موقع پر ۔لہٰذا دینی مدارس کے لیے یا مسجد کے ليے اگر چندہ کی ضرورت ہو تو مسجد میں چندہ کرنا جائز ہے، البتہ درجہ ذیل شرائط کی رعایت رکھی جائے گی:
(1)چندہ مانگنے والا نمازیوں کےسامنے گزرنے سے احتراز کرے۔ (2) چندہ مانگنےوالاکسی کو تکلیف نہ دے ، مثلاً گردن نہ پھلانگے (3) لوگوں کے ساتھ چمٹ کر بھیک مانگنے کی شکل نہ بنائے ۔(4) خطبہ جمعہ کے دوران چندہ نہ کیا جائے۔
اگر ان شرائط کی رعایت نہ ہو سکے تو پھر ضرورت کے وقت مسجد میں صرف اعلان کرلیا جائے، جب کہ مسجد سے باہررقم اکٹھی کی جائے۔
عن عبد الرحمن بن خباب، قال: شهدت النبي صلى الله عليه وسلم وهو يحث على جيش العسرة،فقام عثمان بن عفان فقال: يا رسول الله علي مائة بعير بأحلاسها، وأقتابها في سبيل الله، ثم حض على الجيش، فقام عثمان بن عفان، فقال: يا رسول الله علي مائتا بعير بأحلاسها، وأقتابها في سبيل الله، ثم حض على الجيش فقام عثمان بن عفان فقال: يا رسول الله علي ثلاث مائة بعير بأحلاسها وأقتابها في سبيل الله، فأنا رأيت رسول الله صلى الله عليه وسلم ينزل عن المنبر وهو يقول:"ما على عثمان ما عمل بعد هذه، ما على عثمان ما عمل بعد هذه".(سنن الترمذي،أبواب المناقب، باب في مناقب عثمان بن عفان،رقم الحديث:3700،ج:2،ص:211)
(قوله ويكره التخطي للسؤال إلخ ) قال في النهر: والمختار أن السائل إن كان لا يمر بين يدي المصلي ولا يتخطى الرقاب ولا يسأل إلحافا بل لأمر لا بد منه فلا بأس بالسؤال والإعطاء ا هـ ومثله في البزازية. وفيها ولا يجوز الإعطاء إذا لم يكونوا على تلك الصفة المذكورة قال الإمام أبو نصر العياضي: أرجو أن يغفر الله - تعالى - لمن يخرجهم من المسجد. وعن الإمام خلف بن أيوب: لو كنت قاضياً لم أقبل شهادة من يتصدق عليهم. اهـ. وسيأتي في باب المصرف أنه لايحل أن يسأل شيئاً من له قوت يومه بالفعل أوبالقوة كالصحيح المكتسب ويأثم معطيه إن علم بحالته لإعانته على المحرم".فقط،والله أعلم"۔(ردالمحتارعلی الدرالمختار، کتاب الصلوة، باب الجمعة، مطلب في الصدقة علی سؤال المسجد،ج:3، ص:42)