بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

لاگ ان 02/11/2026

دارالافتاء

 دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور
 

اولاد کے لیے خریدے گئے پلاٹ میں زکوۃ کا حکم


سوال

اگر کوئی شخص اپنی  سب اولاد کے لیے پلاٹیں خرید لے اور اولاد میں سے کوئی نابالغ ہو تو اس کےپلاٹ پر زکوۃ واجب ہوگی یا نہیں؟

جواب

واضح رہے کہ اگر کوئی پلاٹ اپنی اولاد کے لیے  خریدی جائے اور اس میں تجارت کی نیت نہ ہو تو اس پر زکوۃ واجب نہیں ہوتی۔ 

لہذا صورت مسئولہ کے مطابق اگر کوئی شخص اپنی اولاد کے لیے پلاٹیں خرید لے تو اس پر زکوۃ واجب نہیں ہوگی، چاہے اس کی اولاد بالغ ہو یا نا بالغ۔

 

الزكاة واجبة في عروض التجارة كائنة ما كانت إذا بلغت قيمتها نصابا من الورق والذهب ۔۔۔وتشترط نية التجارة لأنه لما لم تكن للتجارة خلقة فلا يصير لها إلا بقصدها فيه۔(فتح  القدير ،كتاب الزكوة ،باب زكوة المال ج :2، ص:166)

وليس في دور السكنى ،وثياب البدن ،وأثاث المنزل ،ودواب الركوب ،وعبيد الخدمة وسلاح  الاستعمال زكوة لأنها مشغول بالحاجة الأصلية و ليست نامية ۔(الهداية ،كتاب الزكوة،ج :1، ص:202)


فتویٰ نمبر : 10408/297/321

دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور