بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

لاگ ان 31/08/2026

دارالافتاء

 دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور
 

کام کاج کے کپڑوں میں نماز پڑھنے کا حکم


سوال

 ہمارے گھروں میں اکثر عورتیں اپنے کام کاج کے کپڑوں میں نماز پڑھتی ہیں کیا ان کا ان کپڑوں میں نماز پڑھنا جا ئز ہے یا نہیں ؟

جواب

واضح رہے کہ نماز کی ادائیگی کی جملہ شرائط میں سے ایک شرط کپڑے کا پاک ہونا بھی ہےچنانچہ اگرکپڑے پاک نہ ہو ں،توان میں نمازپڑھنا  جائز نہ ہوگا۔

لہذا صورت مسؤلہ کے مطابق اگر  کام کاج کے کپڑے کے علاوہ دیگر صاف کپڑے موجود ہو ں،تو کام کاج کےکپڑوں میں نمازپڑھنا مکروہ ہو گا ،تاہم اگر کام کاج کے کپڑے کے علاوہ  اور کوئی کپڑے موجود نہ ہوں یا نماز کا وقت تنگ ہو یا مصروفیت کی وجہ سے ان کو  بدلنے کا موقع نہ ہو ،تو پھرکام کاج کےکپڑوں میں نمازپڑھنا بلا کراہت جائزہو گا۔

 

وتكره الصلاة في ثياب البذلة. كذا في معراج الدراية.(الفتاوى الهندية، الباب السابع فيما يفسد الصلاة وما يكره فيها، الفصل الثاني فيما يكره في الصلاة وما لا يكره ج: 1،ص: 107)
 (وصلاته في ثياب بذلة) يلبسها في بيته (ومهنة) أي خدمة، إن له غيرها وإلا لا. (قوله ‌وصلاته ‌في ‌ثياب ‌بذلة)بكسر الباء الموحدة وسكون الذال المعجمة: الخدمة والابتذال، وعطف المهنة عليها عطف تفسير؛ وهي بفتح الميم وكسرها مع سكون الهاء، وأنكر الأصمعي الكسر حلية. قال في البحر، وفسرها في شرح الوقاية بما يلبسه في بيته ولا يذهب به إلى الأكابر والظاهر أن الكراهة تنزيهية.( الدر المختار وحاشية ابن عابدين (رد المحتار) ‌‌باب ما يفسد الصلاة وما يكره فيها ،ج:1ص:641)


فتویٰ نمبر : 10423/297/321

دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور