بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

لاگ ان 31/08/2026

دارالافتاء

 دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور
 

مزنیہ کی بہن کے ساتھ نکاح کا حکم


سوال

 ايك شخص نے کسی لڑکی کے ساتھ ناجائز تعلقات قائم کیے ،یہاں تک کہ اس کے ساتھ زنا کا ارتکاب کیا ۔اب  اس کی بہن کے ساتھ  اس شخص کا رشتہ طے ہوا ہے ،دریافت طلب امر یہ ہےکہ کیا یہ شخص اس  مزنیہ کی بہن کے ساتھ نکاح کرسکتا ہے یا وہ اس پر حرام ہے ؟

جواب

اگر کوئی شخص کسی عورت کے ساتھ زنا کا مرتکب ہوجائے تو اس شخص پر اس عورت کے اصول و فروع اور اس عورت پر اس شخص کے اصول و فروع حرام ہوجاتے ہیں۔تاہم ان دونوں پر اصول و فروع کے علاوہ دوسرے رشتہ دارحرام نہیں ہوتے۔

صورت مسئولہ کے مطابق اگر کسی شخص  نےکسی لڑکی کے ساتھ زنا کا ارتکاب کیا  ہوتو اگرچہ  یہ انتہائی قبیح فعل اور گناہ کبیرہ ہے ،جس سے سچی توبہ کرنا ضروری ہے لیکن  اس کی وجہ سے  زانی پر مزنیہ کی بہن حرام نہیں  ہوئی  ،لہٰذا اس کے ساتھ نکاح کرسکتا ہے ۔

 

قوله: (وحرم أيضا بالصهرية أصل مزنيته) قال في البحر: أراد بحرمة المصاهرة الحرمات الأربع ‌حرمة ‌المرأة على أصول الزاني وفروعه نسبا ورضاعا وحرمة أصولها وفروعها على الزاني نسبا ورضاعا.(ردالمحتار على الدر المختار، كتاب النكاح، ج:3، ص:32)

فمن زنى بامرأة حرمت عليه أمها وإن علت وابنتها وإن سفلت، وكذا تحرم المزني بها على آباء الزاني وأجداده وإن علوا وأبنائه وإن سفلوا، كذا في فتح القدير). الفتاوى الهندية ،كتاب النكاح، الباب الثالث في بيان المحرمات، القسم الثاني المحرمات الصهرية، ج:1، ص:339)


فتویٰ نمبر : 7130/297/324

دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور