بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

لاگ ان 02/11/2026

دارالافتاء

 دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور
 

زکوۃ کی ادائیگی میں قیمت فروخت کا اعتبار


سوال

 سونے کی زکوٰۃ کس قیمت کے حساب سے ادا کرنا لازم ہوتا ہے، قیمت خرید یا قیمت فروخت کے حساب سے؟

جواب

واضح رہے کہ  اگر کوئی شخص  قیمت  کے اعتبار سے سونے، چاندی  یا مالِ تجارت کی زکوٰۃ دینا چاہے تو ایسی صورت میں سونے اور چاندی کی قیمت خرید کا اعتبار نہ ہوگا، بلکہ جس دن زکوٰۃ ادا کرے اس دن کی قیمت فروخت کا اعتبار ہوگا۔

لہذا صورت مسئولہ کے مطابق اگر کوئی شخص  سونے میں زکوٰۃ دینا چاہے، تواس میں قیمت خرید کا اعتبار نہیں، بلکہ قیمت فروخت کا اعتبار ہوگا۔

 

‌لأن ‌الواجب ‌الأصلي عندهما هو ربع عشر العين وإنما له ولاية النقل إلى القيمة يوم الأداء فيعتبر قيمتها يوم الأداء، والصحيح أن هذا مذهب جميع أصحابنا.(بدائع الصنائع، كتاب الزكاة، فصل صفة الواجب في أموال التجارة، ج:2، ص:22)


فتویٰ نمبر : 10418/297/321

دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور