بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

لاگ ان 31/08/2026

دارالافتاء

 دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور
 

جس قرض کے ملنے کی امید نہ ہو اس کی زکوۃ


سوال

بندہ کاروبار سے منسلک ہے ،ہمارا لوگو ں پر قرضہ ہوتا ہے جس میں بعض قرض کے ملنے کی امید نہیں ہے،ہم سالانہ زکوۃ کا حساب کرتے ہیں،تو  اس قرض کی زکوۃ کے بارے میں کیا حکم ہے؟

جواب

اگر کسی شخص کا مال دوسرے  شخص کے پاس بطور قرض موجود ہولیکن مقروض سے قرض کے ملنے کی کوئی امید  نہ ہو، تو  اس مال کی زکوۃ واجب نہیں ہوتی۔

 صورت مسئولہ کےمطابق جس قرض  کےوصول ہونے کی امید نہ ہو تو شرعا اس  میں زکوۃ واجب نہیں ۔تاہم اگر مدیون سے بعد میں خلاف توقع قرض وصول ہوگیاتو  اس  میں سال گزرنے کے بعد  زکوۃ لازم ہوگی ،گزشتہ سالوں کی زکوۃدینا لازم نہیں۔

 

(ودين) كان (‌جحده ‌المديون سنين) ولا بينة له عليه (ثم) صارت له بأن (أقر بعدها عند قوم) وقيده في مصرف الخانية بما إذا حلف عليه عند القاضي، أما قبله فتجب لما مضى (وما أخذ مصادرة) أي ظلما (ثم وصل إليه بعد سنين) لعدم النمو.والاصل فيه حديث علي لا زكاة في مال الضمار وهو ما لا يمكن الانتفاع به مع بقاء الملك (ولو كان الدين على مقر ملئ أو) على (معسر أو مفلس) أي محكوم بإفلاسه (أو) على (جاحد عليه بينة).وعن محمد لا زكاة، وهو الصحيح. (الدر المختار،كتاب الزكوة، ص:127)


فتویٰ نمبر : 10426/297/321

دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور