بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

لاگ ان 31/08/2026

دارالافتاء

 دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور
 

پرانے قبرستان میں اسکول بنانا


سوال

اگر کوئی شخص پرانے قبرستان کی قبروں کو مسمار کر کے اس میں اسکول بنانا چاہے تو شریعت کی روسے اس کا کیا حکم ہوگا؟

جواب

 قبرستان اگر موقوفہ  ہو کسی کی ذاتی ملکیت نہ ہو تو اس  کی زمین پر کسی کے لیے ذاتی ملکیتی تصرف کرنا شرعا جائز نہیں،بلکہ جس مقصد کے لیے وقف ہے اسی میں استعمال کرنا لازم ہے۔البتہ اگر قبرستان کسی کی ذاتی ملکیت ہو اور اس میں مالک کی اجازت کے بغیر میت دفنائے گئے ہوں تو مالک  ان  کو وہاں سے نکال سکتا ہےاورپھر اس میں ہر قسم  کاجائز  تصرف کرسکتا ہے۔ اور اگر اجازت سے اس میں مردےدفن ہوں تو اگر اتنا عرصہ گزر چکا ہو کہ غالب گمان کے مطابق وہ مٹی بن چکے ہوں  گےتو ان قبروں کے آثار مٹا کراس جگہ میں دوسرے تصرفات کیے جاسکتے ہیں۔

 

وسئل ‌هو ‌أيضا ‌عن ‌المقبرة في القرى إذا اندرست ولم يبق فيها أثر الموتى لا العظم ولا غيره ‌هل ‌يجوز ‌زرعها ‌واستغلالها؟ قال: لا، ولها حكم المقبرة، كذا في المحيط. (الفتاوى الهندية، كتاب الوقف، ج:6، ص:470)

وقال ‌الزيلعي: ولو بلي الميت وصار ترابا جاز دفن غيره في قبره وزرعه والبناء عليه اهـ. قال في الإمداد: ويخالفه ما في التتارخانية إذا صار الميت ترابا في القبر يكره دفن غيره في قبره لأن الحرمة باقية، وإن جمعوا عظامه في ناحية ثم دفن غيره فيه تبركا بالجيران الصالحين، ويوجد موضع فارغ يكره ذلك. (رد المحتار على الدر المختار، مطلب في دفن الميت، ج:3، ص:233)


فتویٰ نمبر : 6228/297/328

دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور