بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم
| لاگ ان | 01/11/2026 |
حقیقی بھائی کی رضاعی بہن سے نکاح کرنا
سوال
ایک آدمی(دوست محمد) کے دو بیٹے(بختیار، ساجد) ہیں، ان میں سے بختیار کو اس کی پھوپھی (دوست محمد کی بہن) نے دودھ دیاہے، تو کیا اس آدمی کےدوسرےبیٹے(ساجد) کااس عورت کی بیٹی سے نکاح درست ہے؟
جواب
شریعت مطہرہ کی رو سے دودھ پینے والے بچے کے لیے دودھ پلانےوالی عورت اور اس کے اصول وفروع سے نکاح کرناجائز نہیں، لیکن یہ حرمت صرف اس دودھ پینے والے کے ساتھ خاص ہے، اس کے دوسرے بہن بھائیوں کی طرف متعدی نہیں ہوتا، لہذا صورت مسئولہ کے مطابق ساجد کااپنے حقیقی بھائی بختیار کی رضاعی بہن سےنکاح کرنا جائز ہے، بشرطیکہ حرمت کی کوئی اور وجہ نہ ہو۔
ولو أرضعت أمه جارية لها إخوة وأخوات كان له أن يتزوج أخوات تلك الجارية؛ لأن التي أرضعتها الأم أخته من الرضاعة، ولا سبب بينه وبين أخواتها.(المبسوط للسرخسي، باب تفسيرلبن الفحل، ج: 30، ص: 301)
(وتحل أخت أخيه رضاعاً) يصح اتصاله بالمضاف كأن يكون له أخ نسبي له أخت رضاعية، وبالمضاف إليه كأن يكون لأخيه رضاعاً أخت نسباً وبهما وهو ظاهر.(الدرالمختار، كتاب النكاح، باب الرضاع، ج:3، ص:217)