بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

لاگ ان 01/09/2026

دارالافتاء

 دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور
 

منگنی توڑنے پر جرگے کی طرف سے مالی جرمانہ


سوال

ہماری محسود برادری میں کسی لڑکی کی منگنی کسی عذر کی بنیاد پر یا لڑکی کے کسی وجہ سے انکار پر جرگے کی طرف سے لڑکی والوں پر تعزیر بالمال عائد کیا جاتا ہے جو کہ تین سے چار لاکھ تک کا ہوتا ہے ۔ درج ذیل سوالات کے جوابات عنایت فرمائیں ۔۔۔1...کیا لڑکی والوں پر تعزیر بالمال عائد کرنا جائز ہے ۔2...کیا لڑکی والوں کو لڑکے والوں کی طرف سے اس بات پر مجبور کیا جا سکتا ہے کہ اس لڑکی کا نکاح اسی لڑکے سے کیا جائے ؟۔۔۔3...کیا لڑکے والوں کا اس بات کو عزت اور غیرت کا مسئلہ بنانا جائز ہے؟

جواب

واضح رہے کہ جب تک  منگنی   میں باقاعدہ ایجاب وقبول نہ ہوا ہو تو یہ محض وعدہ نکاح  شمار ہو تا ہے لہذا کسی ضرورت اور واقعی عذر کے بغیر اس کو توڑنا وعدہ خلافی کے زمرے میں شامل ہو کر شرعاً ممنوع ہوگا۔منگنی کی حیثیت شرعاً محض نکاح کا وعدہ ہے، البتہ کسی معقول عذر کی بنا پر منگنی توڑنے کی شرعاً گنجائش ہے، لیکن  منگنی توڑنے پرکوئی جرمانہ عائد کرنا شرعاًجائز نہیں ہے۔

صورت مسؤلہ کے مطابق اگر منگنی لڑکی کی رضا مندی کے بغیر ہوئی ہو تو لڑکے والوں کی طرف سے اس کو مجبور کرنا شرعا جائز نہیں نیزمنگنی کے بعد لڑکے والوں کا یہ کہنا کہ نکاح ہر صورت میں کرنا ہوگا، اور اس کے لیے دباؤ ڈالنا یا اسے عزت کا مسئلہ بنانا درست نہیں۔

 

لو قال هل أعطيتنيها فقال أعطيت إن كان المجلس للوعد فوعد وإن كان للعقد فنكاح۔(رد المحتار،كتاب النكاح ،مطلب كثيرا ما يتساهل في إطلاق المستحب على السنة،ج:4،ص:72)

‌لا ‌يجوز ‌نكاح ‌أحد على بالغة صحيحة العقل من أب أو سلطان بغير إذنها بكرا كانت أو ثيبا فإن فعل ذلك فالنكاح موقوف على إجازتها فإن أجازته؛ جاز، وإن ردته بطل،،(الفتاوی الهنديه،كتاب النكاح،الباب الرابع في الأولياءج:1ص:276)

خلاف ما أظهروا وأما من عزم على الوفاء ثم بدا له فلم يف بهذا لم يوجد منه صورة نفاق كما في الإحياء من حديث طويل عند أبي داود والترمذي مختصرا بلفظ «إذا وعد الرجل أخاه، ومن نيته أن يفي فلم يف فلا إثم عليه» (انتهى) .وقيل: عليه فيه بحث فإن أمر «أوفوا بالعقود» مطلق فيحمل عدم الإثم في الحديث على ما إذا منع مانع من الوفاء۔(غمز عيون البصائر شرح الأشباه والنظائر،كتاب الحظر والإباحة،ج:3،ص:236)


فتویٰ نمبر : 6295/297/328

دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور