بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

لاگ ان 01/09/2026

دارالافتاء

 دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور
 

رباب نام رکھنا


سوال

 رباب نام رکھنا کیسا ہے؟

جواب

والدین کی ذمہ داری ہے کہ وہ بچے کی پیدائش کے بعد اس کے لیے اچھا نام تجویز کریں،نام رکھنے میں نسبت یا  معنی کی رعایت رکھنا ضروری ہے کیونکہ اچھے اور بامعنی نام کا اثر اچھا ہوتا ہے اور برے نام کا اثر برا۔ چنانچہ اگر ایسا نام رکھا گیا ہو جو معنی کے لحاظ سے  اچھا نہ ہو تو اس کو تبدیل کرنا چاہیے۔

"رباب"یہ عربی زبان کا لفظ ہے، جو حرف "ر"کے زبر،زیر اور پیش کے ساتھ ( تینوں طرح )استعمال ہوتاہے۔ اگر "رَباب"ر کے زبر کے ساتھ ہوتو اس کا معنی ہے: سفید بادل اور یہ مکہ مکرمہ کے قریب ایک جگہ کانام بھی ہے۔ نیز "رَباب"ر کے زبر کے ساتھ ایک صحابیہ کا اسم گرامی بھی ہے، لہذا اس مناسبت سے یہ نام رکھنامستحسن ہے۔

اور "رِباب"ر کی زیر کے ساتھ ہوتو اس کا معنی ہے: عہد،میثاق، بکری کا بچہ جننے کے قریب ہونا۔ پہلے دو  معانی کے اعتبار سے "رِباب"نام ر کے کسرہ کے ساتھ رکھاجاسکتاہے۔

اور اگر "رُباب"ر کے پیش کے ساتھ ہوتو اس کے معنی ہیں: وہ بکریاں جنہوں نے ابھی بچے جنے ہوں، اور یہ عرب میں ایک جگہ کانام بھی ہے۔ "رُباب"ر کے پیش کے ساتھ مناسب معلوم نہیں ہوتا۔

 

-بَابُ رَبَابٍ، ورُبَابٍ، أما اْلأَوَّلُ: - بِفَتْحِ الراء بَعْدَهَا باء مُوْحَّدَة، وفي آخره مثلها - : مَوْضِعٌ عند بئر ميمون مَكَّة. وجبل بين المدينة وفيد على طريق كان يسلك قديماً يذكر مع جبل آخر يُقَالُ له خولة مقابل له وهما عن يمين الطريق ويساره.وأما الثَّاني: - بِضَمِّ الراء والباقي نحو اْلأَوَّلُ - : أرض بين دِيَارِ بني عامر وبلحارث بن كعب.(الاماکن لابی بکر محمدبن موسی الحازمی، ص:457)

-والرُبَّى بالضم على فُعْلَى: الشاةُ التي وضَعَتْ حديثاَ، وجمعها رُبابٌ بالضم والمصدر رِبابٌ بالكسر، وهو قُرْبُ العَهْدِ بالولادة، تقول: شاةٌ رُبَّى بَيِّمَةُ الرِبابِ، وأَعْنُزٌ رِ باب. (الصحاح تاج اللغةوصحاح العربية، ‌‌فصل الراء [ربب]، ج:1، ص:131)

-قال أَبو عليَ الفارسي: أَرِبَّةٌ : جَمْعُ رِبَابٍ ، وهو العَهْدُ۔(تاج العروس، [ربب]، ج:2، ص:467)

والرَّبَابُ بالفَتْحِ :السَّحَابُ الأَبْيَضُ ."(تاج العروس، [ربب]، ج:2، ص:471)

رباب بالضم نادر تقول أعنز رباب والمصدر رباب بالكسر وهو قرب العهد بالولادة.(لسان العرب، ‌‌فصل الراء، ج:1، ص:398)

-والرُّبّى: الشّاةُ الحَدِيْثَةُ النِّتَاجِ، والجَمعُ رُبَابٌ ورِبَابٌ. (المحیط فی اللغۃ، ج:10، ص:213)

" الرَّبَابُ بنتُ النُّعْمان بن امرئ القيس بن عبد الأشهل الأنصارية الأشهلية والدة معاذ بن زرارة الظفري ذكرها بن حبيب أيضا وقال بن سعد هي عمة سعد بن معاذ وكان تزوجها زرارة بن عمرو بن عدي الأوسي فولدت له معاذا وخلف عليها المعرور بن صخر فولدت له الرباب وأسلمت الرباب وبايعت "(الإصابة في تميز الصحابة، ج:8، ص:131)


فتویٰ نمبر : 6177/297/328

دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور