بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

لاگ ان 01/09/2026

دارالافتاء

 دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور
 

صحبت کے دوران بیوی کا دودھ پینا


سوال

 شوہر اگر صحبت کے دوران اپنی بیوی کا دودھ پی جائے تو اس کا کیا حکم ہے؟

جواب

شریعت مطہرہ کی روسے انسان اور اس کے سب اعضاء واجزاء مکرم ہیں، لہٰذا انسانی اعضاء و اجزاء کی عظمت اور اکرام  کی وجہ سے شرعاً بلاضرورت ان کا استعمال اور ان سے انتفاع ممنوع ہے۔ چونکہ عورت کا دودھ بھی اس کےبدن کا ایک جزء ہے،اس لیے عورت کے دودھ کو  بلا ضرورت استعمال کرنا جائز نہیں۔ لہذا، شوہر کے لیے اپنی بیوی کا دودھ پینا شرعا حرام ہے،تاہم اگرکوئی پی لے تو اس سے میاں بیوی کے نکاح پر کوئی اثر نہیں پڑتا۔

 

(ولم يبح الارضاع بعد مدته) لانه جزءآدمي والانتفاع به لغير ضرورة حرام على الصحيح. (الدر المختار علی صدر ردالمحتار، کتاب النکاح، باب الرضاع، ج 1، ص 398)

إذا مص الرجل ثدي امرأته وشرب لبنها لم تحرم عليه امرأته لما قلنا أنه لا رضاع بعد الفصال. (فتاویٰ قاضیخان، کتاب النکاح، باب الرضاع، ج 1، ص 362)


فتویٰ نمبر : 6178/297/328

دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور