بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم
| لاگ ان | 30/08/2026 |
حرام كمائی والے شخص کا اپنی اہلیہ کی کمائی سے دعوت کرنے کا حکم
سوال
ایک شخص انشورنس کمپنی میں ملازم ہے اور وہ اکثر مدرسہ کے مدرسین کے لیے دعوت کا انتظام کرتا ہے، تاہم اس نے اساتذہ کو بتلایا ہے کہ میں اس دعوت کا انتظام اپنی اہلیہ کی کمائی سے کرتا ہوں۔ یاد رہے کہ اس کی اہلیہ بنات کے ایک مدرسے میں معلمہ ہے۔ سوال یہ ہے اس طرح کے دعوت طعام کو تناول کرنا ازروئے شریعت کیسا ہے؟
جواب
جس شخص کی پورا آمدنی حرام ہو یا غالب آمدنی حرام ہو تو ایسے شخص کی دعوت، ہدیہ اورتحفہ وغیرہ قبول کرنا جائز نہیں، تاہم اگر وہ مالِ حلال سے دعوت کرے تو پھر اس کی دعوت قبول کرنا جائز ہے۔
صورت مسئولہ كے مطابق اگر مذکورہ شخص کی غالب کمائی حرام ہو، لیکن وہ اپنی اہلیہ کی کمائی سے اس کی اجازت کے ساتھ مدرسین کےلیے دعوت کا اہتمام کرتاہو تو اس کو قبول کرنا جائز ہے۔
عن أنس بن مالك ، أن رسول الله صلى الله عليه وسلم قال: «لا يحل مال امرئ مسلم إلا بطيب نفسه» ( سنن الدارقطني، كتاب البيوع، رقم الحديث: 2885، ج: 3، ص: 424)
لا يجيب دعوة الفاسق المعلن ليعلم أنه غير راض بفسقه، وكذا دعوة من كان غالب ماله من حرام ما لم يخبر أنه حلال وبالعكس يجيب ما لم يتبين عنده أنه حرام، كذا في التمرتاشي.۔۔۔ آكل الربا وكاسب الحرام أهدى إليه أو أضافه وغالب ماله حرام لا يقبل، ولا يأكل ما لم يخبره أن ذلك المال أصله حلال ورثه أو استقرضه، وإن كان غالب ماله حلالا لا بأس بقبول هديته والأكل منها، كذا في الملتقط. (الفتاوى الهندية، كتاب الكراهية، الباب الثاني عشر في الهدايا والضيافات، ج: 5، ص: 343)