بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم
| لاگ ان | 01/09/2026 |
تعزيت کی جگہ تلاوت کرنا
سوال
ہمارے علاقے میں جب فوتگی ہوجاتی ہے تو لوگ گھر یا مسجد میں تین دن تک مسلسل تعزیت کے لیے بیٹھتے ہیں پھر تیسرےدن ایک قاری صاحب کو خاص طور پر بٹھایا جاتا ہےاوروہ تلاوت کرنے کے بعدمیت کے لیے ایصال ثواب کرتا ہے اس عمل کا خصوصی اہتمام کیا جاتا ہے اور نہ کرنے پر ملامت کیا جاتا ہے تو کیا اس طرح کرنا جائز ہے یا نہیں؟
جواب
واضح رہےکہ میت کے لیے دعا کرنا ،اور ہمدردی کا اظہار کرنا سنت رسول ﷺ سے ثابت ہے تعزیت کا بنیادی مقصد غمزدہ خاندان کو تسلی دلانا ہوتا ہے ، لہذا جس طریقے سے بھی تسلی دی جاسکتی ہے وہ جائز ہے کیونکہ لوگوں کے احوال اور مزاج مختلف ہوتےہیں علاقائی عرف کے مطابق اگر کوئی اظہار ہمدردی کرے تواس میں کوئی قباحت نہیں، البتہ اس کا لحاظ ضروری ہے کہ تعزیت کے دوران کوئی خلاف شرع کام سر زد نہ ہو اور کسی غیر لازم کام کو شرعا ًلازم نہ سمجھا جائے جہاں تک ایصال ثواب کی نیت سے تلاوت کا تعلق ہے تو میت کے لیے ایصال ثواب تلاوت کی شکل میں جائز ہے ، تاہم تعزیت میں تلاوت کو لازمی سمجھنا جائز نہیں ۔
صورت مسئولہ میں کسی شخص کے فوت ہو جانے کے بعد اس کے قریبی رشتہ داروں کا تعزیت کے لیے تین دن تک بیٹھنا اور لوگوں کا تعزیت کرنا جائز ہے ۔اس دوران تلاوت کرنے اور دعا مانگنے میں بھی کوئی حرج نہیں۔تاہم اس طریقہ کا ر کو سنت کا درجہ نہ دیا جائے اور اس کو لازمی اور ضروری بھی نہ سمجھاجائے ، چنانچہ اگر کہیں اس کو لازمی اور ضروری سمجھا جاتا ہو اور اس طریقہ کار کے مطابق تعزیت نہ کرنے والوں کو ملامت کیا جاتا ہو، تو ایسی صورت میں اس طریقہ کار کو ترک کرنا چاہیے۔
"والتعزية أن يقول : أعظم الله أجرك ، وأحسن عزاءك ، وغفر لميتك" ۔(رد المحتار على الدر المختار، كتاب صلوٰۃ الجنائز، مطلب في دفن الميت، ج:3،ص:147)
"ولا بأس لأهل المصيبة أن يجلسوا في البيت أو في مسجد ثلاثة أيام والناس يأتونهم ويعزونهم"۔(الفتاوى الهندية، كتاب الجنائز، فصل في التعزية ،ج:1،ص:228)
"صرح علماؤنا في باب الحج عن الغير بأن للإنسان أن يجعل ثواب عمله لغيره صلاة أو صوما أو صدقة أو غيرها كذا في الهداية، بل في زكاة التاتارخانية عن المحيط : الأفضل لمن يتصدق نفلا أن ينوي لجميع المؤمنين والمؤمنات لأنها تصل إليهم ولا ينقص من أجره ۔۔۔وأنه لا فرق بين الفرض والنفل ۔(ردالمحتار على الدرالمختار، كتاب صلوٰۃ الجنائز، باب الجنازة،مطلب في القراءة للميت وإهداء ثوابها له، ج:3، ص:151،152)
"ولأن ذكر الله تعالى إذا قصد به التخصيص بوقت دون وقت أو بشيء دون شيء لم يكن مشروعا حيث لم يرد الشرع به لأنه خلاف المشروع "۔(البحر الرائق، كتاب الصلاة، باب صلاة العيدين، ج:2،ص:279)