بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

لاگ ان 01/09/2026

دارالافتاء

 دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور
 

حمنہ ،ابیحہ اور منتہیٰ نام رکھنا


سوال

حمنہ ،ابیحہ اور منتہیٰ کا کیا معنیٰ ہے اور ان میں بہتر نام کونسا ہے ؟

جواب

''حمنہ''  امّ المومنین حضرت زینب بنتِ جحش رضی اللہ عنہا کی بہن،حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی سالی کا نام تھا،  نیز صحابہ کے ناموں پر نام رکھنے کے لیے محض نسبت ہی باعثِ برکت ہے، ان ناموں میں مطلب اور معنیٰ کی طرف نظر کرنے کی ضرورت نہیں۔

"مُنتَہیٰ" (میم پر پیش، نون ساکن، تاء پر زبر، ہا پر کھڑے زبر کے ساتھ) کا معنیٰ: ’’کسی چیز کی آخری حد، انتہا یا خاتمہ‘‘ہے ۔ معنی کے اعتبار سے یہ نام رکھنا درست ہے۔

لفظ ’’ابیحہ‘‘ کا صحیح تلفظ ’’ابیہہ‘‘ ہے یعنی آخر سے پہلے والا حرف ’ح‘ کے بجائے ’ہ‘ ہے اور آخری حرف بھی ’ہ‘ ہے، ’’ابیہہ‘‘ کے معنیٰ  سمجھ دار  کے ہیں ، یہ نام رکھنا درست ہے۔

 

حمنة بنت جحش بن رياب الأسدية، من بني أسد بن خزيمة، أخت زينب بنت جحش، كانت عند مصعب بن عمير وقتل عنها يوم أحد فتزوجها طلحة بن عبيد الله، فولدت له محمدا وعمران ابني طلحة بن عبيد الله. (الاستيعاب في معرفة الأصحاب، ج:4، ص:1813)

‌أبه: ‌أَبَهَ لَهُ يَأْبَهُ أَبْهاً وأَبِهَ لَهُ وَبِهِ أَبَهاً: فَطِنَ. وَقَالَ بَعْضُهُمْ: ‌أَبِهَ لِلشَّيْءِ أَبَهاً نسِيه ثُمَّ تفطَّنَ لَهُ. وأَبَّهَ الرجلَ: فَطَّنه.(لسان العرب، فصل الألف، ج:13، ص:466)

وانتهى الشيء وتناهى ونهى تنهية : أي بلغ نهايته.(تاج العروس من جواهر القاموس، ج:14، ص:40)


فتویٰ نمبر : 6210/297/328

دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور