بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

لاگ ان 02/11/2026

دارالافتاء

 دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور
 

چار تولہ سونا میں زکوٰۃ کا حکم


سوال

ا گر کسی عورت کے پاس چار تولہ سونا ہو اور اس کے علاوہ نقد پیسے اتنے نہ ہوں کہ ان پر سال گزر سکے، بلکہ جو پیسے آتے ہیں وہ خرچ کر دیتی ہے، تو کیا اس صورت میں عورت پر زکوٰۃ واجب ہے یا نہیں ؟

جواب

شریعت مطہرہ کی رو سےسونے میں وجوب زکوٰۃ کےلیے نصاب ساڑھے سات تولےسونا ہے، اس سے کم سونے میں زکوٰۃ واجب نہیں ہے۔

لہذا صورت مسؤلہ کے مطابق اگر کسی عورت کی ملکیت  میں چار تولہ سونا ہو اورا س  کے علاوہ نقد رقم   اتنی نہ ہو جو ساڑھے چوبیس تولہ چاندی کے برابر  ہو  تو اس پر زکوٰۃ واجب نہ  ہوگی۔

 

عن علي رضي الله عنه، عن النبي صلى الله عليه وسلم ببعض أول هذا الحديث، قال: «فإذا كانت لك مائتا درهم، ‌وحال ‌عليها ‌الحول، ‌ففيها ‌خمسة ‌دراهم، ‌وليس عليك شيء - يعني - في الذهب حتى يكون لك عشرون دينارا،فإذا كان لك عشرون دينارا،وحال عليها الحول، ففيها نصف دينار.(سنن إبي داؤد،كتاب الزكوة، رقم الحديث:1573)

ويضم الذهب إلی الفضة،والفضة إلی الذهب، ويكمل إحدى النصابين بالآخرعند علمائنا. ) الفتاوى التاتارخانية، كتاب الزكوة، فصل في زكوة المال، ج:3، ص:157 (


فتویٰ نمبر : 10379/297/321

دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور