بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم
| لاگ ان | 01/09/2026 |
بڑھاپے کی وجہ سے قرآن مجید بھول جانا
سوال
میری عمر بہت بڑھ گئی ہے،اور حافظہ بھی کمزور پڑھ گیا ہے،اکثر اوقات میں قرآن پڑھنے میں بھول جاتا ہوں،تو کیا میں بھی اس وعید میں شامل ہوتا ہوں جو قرآن بھلا دینے والوں کے لیے ہے؟
جواب
قرآن کریم کو حفظ کرنا بہت بڑی نعمت ہے اور پھر غفلت اور لاپر وائی سے اس کو بھلادینا اس نعمت عظمی کی ناشکری ہے۔ اس وجہ سے قرآن کریم بھلا دینے پر حدیث شریف میں وعید آئی ہے، رسول کریم ﷺ نے فرمایا جو شخص قرآن کریم پڑھ کر بھول جائے تو وہ قیامت کے دن اللہ سے اس حال میں ملاقات کرے گا کہ اس کا ہاتھ کٹا ہوا ہو گا۔ شارحین حدیث کے ہاں یہ وعید ایسے شخص کے بارے میں ہے جو قرآن مجید کو ایسا بھلادے کہ قرآن کریم میں دیکھ کر پڑھنے پر بھی قادر نہ ہو، لہذا اگر کوئی شخص حافظہ کی کمزوری یا بڑھاپے کی وجہ سے قرآن مجیدیاد نہ رکھ سکے البتہ قرآن کریم میں دیکھ کر پڑھ سکتا ہو تو وہ اس وعید میں داخل نہ ہو گا۔
عن سعد بن عبادة، قال: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم : ما من امرئ يقرأ القرآن، ثم ينساه،إلا لقي الله عز وجل يوم القيامة أجدم (سنن أبي داؤد، كتاب الصلوة، باب التشديد في من حفظ القرآن ثم نسيه :ج:1،ص:217)
إذا حفظ الإنسان القرآن ثم نسيه فإنه يأثم، وتفسير النسيان أن لا يمكنه القراءة من المصحف. (الفتاوى الهندية، كتاب الكراهية الباب الرابع في الصلاة والتسبيح وقراءة القرآن:ج:5،ص:366)
النسيان عندنا أن لا يقدر أن يقرأ بالنظر .(مرقاة المفاتيح شرح مشكوة المصابيح، كتاب الصلاة، باب المساجد ومواضع الصلاة ج:2،ص:605)