بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

لاگ ان 01/09/2026

دارالافتاء

 دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور
 

براہوئی زبان میں بیوی کو یہ کہنا کہ میں نے تم کو مسٹ دیا ہے


سوال

 ہمارے علاقے رخشان بلوچستان میں براہوئی زبان میں کسی کو "مسٹ تیننگ"یعنی"تین دینا"تین طلاق کےلیے بولا جاتا ہے ۔ اب سوال یہ ہے کہ ہمارے علاقے میں زیداپنی بیوی سے کہے کہ میں نے تم کو"مسٹ (تین)دیاہے میرے گھر سے نکل جاؤ۔تواس صورت میں کیاتین طلاقیں واقع ہو جاتی ہیں؟

جواب

طلاق کے وقوع کے لیے ضروری ہے کہ طلاق دینے والا یا تو طلاق کے  صریحی الفاظ استعمال کرے اور یا طلاق کی نیت  سےیا مذا کرۂ طلاق کے دوران ایسے الفاظ استعمال کرے جو معنی کے لحاظ سے رشتہ نکاح ختم کرنے  پر دلالت کرتے  ہوں۔  اگر کسی نے اپنی بیوی  کو  ایسے الفاظ استعمال کیے جو ان کے عرف میں طلاق شمار ہوتی ہو،تو اس سے طلاق واقع ہوجائے گی کیونکہ طلاق کسی بھی زبان میں دیا جائے تو واقع ہوجائی گی،  نیز عدد کسی چیز کی  کمیت اور مقدار معلوم کرنے کے لیے وضع  کیاگیا ہے ، اس وجہ  سے محض عدد کو طلاق کی تعبیر  قرارنہیں  دیا جا سکتا لیکن جہاں کہیں "تین دینا"یا 'ایک ،دو ،تین'   وغیرہ  الفاظ طلاق کے لیے  استعمال کیے جاتے ہوں تو وہاں یہ  طلاق  شمار ہوں گے۔

صورت مسئولہ میں اگر  مذکورہ علاقے کی زبان میں "مسٹ" تین عدد کے لیے استعمال ہوتا ہے ،تو اگر کسی نے اپنی بیوی سے یہ کہا کہ " میں نے تم کو مسٹ دیا ہے میرے گھر سے نکل جاؤ" اور  وہاں یہ مسٹ دینا طلاق کے لیے استعمال ہوتا ہو اور یا  اس شخص کی نیت تین طلاق دینے کی ہو جیسا کہ بعد والے جلے سے معلوم ہوتا ہے ، تو  ایسی صورت میں اس کی بیوی  کو تین طلاقیں  واقع  ہو کر وہ  مغلظہ بن  جائے گی۔

 

 والأصل الذي عليه الفتوى في زماننا هذا في الطلاق بالفارسية أنه إذا كان فيها لفظ لا يستعمل إلا في الطلاق فذلك اللفظ صريح يقع به الطلاق من غير نية إذا أضيف إلى المرأة وما كان بالفارسية من الألفاظ ما يستعمل في الطلاق وفي غيره فهو من كنايات الفارسية فيكون حكمه حكم كنايات العربية في جميع الأحكام كذا في البدائع.(الفتاوى الهندية ، كتاب الطلاق،الباب الثاني في إيقاع الطلاق،ج:1،ص:447)

ولو قال لها تو سه ده ونوى الطلاق يقع كذا في خزانة المفتين.( الفتاوى الهندية ، كتاب الطلاق،الباب الثاني في إيقاع الطلاق،ج:1،ص:448)

(قوله وركنه لفظ مخصوص) هو ما جعل دلالة على معنى الطلاق من صريح أو كناية فخرج الفسوخ على ما مر، وأراد اللفظ ولو حكما ليدخل الكتابة المستبينة وإشارة الأخرس والإشارة إلى العدد بالأصابع في قوله أنت طالق هكذا كما سيأتي.(ردالمحتار على الدر المختار،كتاب الطلاق، ج:4، ص:431)


فتویٰ نمبر : 7166/297/324

دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور