بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم
| لاگ ان | 31/08/2026 |
طلاق کےپچاس دن بعد رجوع کرنا
سوال
میں نے اپنی بیوی کو ایک طلاق دی تھی، اس وقت میرے ذہن پر بوجھ تھا، جب گھر والوں نے میرا علاج کیا تومیں اپنے فعل پر بہت نادم تھا، طلاق دینے کےپچاس دن بعد میں نے بیوی سے بات چیت کرلی اور ازدواجی تعلق قائم کیا، لیکن پھر بھی ذہن کو بہت وسوسے آتے ہیں، اب طلاق کے تقریباً ڈھائی مہینے، جبکہ ازدواجی تعلق کے پچیس دن گزرے ہیں، طلاق دیتے وقت مجھے علم نہیں تھا کہ بیوی حالت طہر میں ہے یا حالت حیض میں، اب سوال یہ ہے کہ میرا رجوع صحیح ہوا ہے یا دوبارہ نکاح کرنا ضروری ہوگا؟
جواب
جب شوہر بیوی کو ایک یا دو طلاقیں دے، چاہے حیض کی حالت میں ہو یا طہر کی حالت میں، تو اس کے بعد شوہر کو عدت کے دوران رجوع کا حق حاصل ہوتا ہے اور اگر عدت میں رجوع نہ کرے تو عدت گزر جانے کے بعد اگر شوہر اسی عورت سے رشتہ زوجیت قائم کرنا چاہے تو باہمی رضامندی سے دونوں دوبارہ نکاح کر سکتے ہیں البتہ اس کےبعد شوہر ایک طلاق کا مالک ہوگا۔
صورت مسئولہ کے مطابق اگرسائل نے طلاق کے پچاس دن بعد قولاًیا فعلاً رجوع کرلیا ہویعنی زبان سے یہ کہہ دیا کہ میں نے رجوع کرلیا ہےیا ازدواجی تعلقات قائم کرلیےہوں اور اس دوران عورت کے تین حیض نہ گزرے ہوں تو اس سے رجوع درست شمارہو گااور نکاح برقراررہے گا،دوبارہ نکاح کرنے کی ضرورت نہیں، تاہم آئندہ کے لیے اس کو صرف دو طلاقوں کا اختیار ہوگا۔
"وإذا طلقها واحدة في الطهر أو في الحيض أو بعد الجماع فهو يملك الرجعة مادام في العدة لأن النبي - صلى الله عليه وسلم - «طلق سودة - رضي الله تعالى عنها - بقوله اعتدي ثم راجعها» ۔ ۔ ۔ فإذا انقضت العدة قبل الرجعة فقد بطل حق الرجعة وبانت المرأة منه، وهو خاطب من الخطاب يتزوجها برضاها إن اتفقا على ذلك."(المبسوط للسرخسي، كتاب الطلاق، باب الرجعة، ج:6، ص:19)
"وإذا طلق الرجل امرأته تطليقة رجعية أو تطليقتين فله أن يراجعها في عدتها رضيت بذلك أو لم ترض كذا في الهداية."(الفتاوي الھندیة، کتاب الطلاق،ج:1، ص:470)
"(هي استدامة الملك القائم) بلا عوض ما دامت (في العدة) ... (بنحو) متعلق باستدامة (رجعتك) ورددتك ومسكتك بلا نية لأنه صريح (و) بالفعل مع الكراهة (بكل ما يوجب حرمة المصاهرة) كمس."(رد المحتار، كتاب الطلاق، باب الرجعة، ج:3، ص:397)