بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

لاگ ان 31/08/2026

دارالافتاء

 دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور
 

کھانے کے بعد پانی پینے کا حکم


سوال

کھانے کے بعد  پانی پینا جائز ہے یا نہیں؟ اور بعض لوگوں کا قول "کھانے سے پہلے پانی پینا سونا ، درمیان میں چاندی اور بعد میں زہر ہے" کیا یہ حدیث ہے یا نہیں ؟ اگر یہ قول حدیث نبوی ہے تو کیا اس سے یہ  استدلال کرنا  صحیح ہے کہ " کھانے کے بعد پانی پینا جائز نہیں"؟

جواب

کھانے کے شروع، آخر یا در میان میں پانی پینے کے مسنون یا ممنوع ہونے کے متعلق کوئی واضح حدیث نہیں ملی، البتہ احادیث مبارکہ میں رسول اللہ ﷺ سے مطلقا ًکھانے کے دوران پانی پینا ثابت ہے، جیسا کہ ابوہریرۃ رضی اللہ عنہ کی روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ حضرت ابو بکر ؓاور حضرت عمرؓ کے ہمراہ ایک انصاری صحابی کے گھر تشریف لے گئے انہوں نے بکری ذبح کی اور کھانے کا اہتمام کیا، ان حضرات نے بکری کا گوشت اور کھجور یں تناول فرمائیں اور پانی نوش فرمایا۔ عبد اللہ بن بسر کی روایت میں "ثم أتى بشراب فشربه" کے الفاظ منقول ہیں جو کھانے کے بعد پانی پینے پر دلالت کر تے ہیں،   نیز نبی ﷺ سے مستقلاً کھانے سے پہلے یاوسط میں یا آخر میں پانی پینے کی کوئی خاص عادت منقول نہیں،  بلکہ جب پیاس محسوس ہوئی تو پانی نوش فرماتے ۔

لہذا کھانے کے بعد پانی پینا شرعاً جائز ہے، اور سوال میں  کھانے سے پہلے، کھانے کے دوران یا بعد میں پانی پینے کے متعلق جو بات کی گئی ہے یہ مضمون کسی صحیح حديث   میں موجود نہیں ۔

 

عن عبد الله بن بسر، قال: نزل رسول الله صلى الله عليه وسلم على أبي، قال: فقربنا إليه طعاما ووطبة، فأكل منها...ثم أتي بشراب فشربه. (الصحيح لمسلم، كتاب الأشربة، باب استحباب وضع النوى خارج التمر، رقم الحديث: 2042،ج: 3،ص: 1615)

والماء ‌العذب ‌نافع ‌للمرضى ‌والأصحَّاء. ‌والبارد ‌منه أنفع وألذُّ. ولا ينبغي شربه على الرِّيق، ولا عقيب الجماع، ولا الانتباه من النَّوم، ولا عقيب الحمَّام، ولا عقيب أكل الفاكهة. وقد تقدَّم. وأمَّا على الطَّعام، فلا بأس به إذا اضطرَّ إليه۔ ( زاد المعاد في هدي خير العباد،حرف: ميم، ج: 4، ص: 579)


فتویٰ نمبر : 6163/297/328

دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور