بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

لاگ ان 01/09/2026

دارالافتاء

 دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور
 

تاریخ پیدائش سے پہلےسالگرہ منانا


سوال

اگر تاریخ پیدائش سےچند دن  پہلے کیک وغیرہ کاٹ لیا جائےاور اس میں لہو لعب(میوزک وغیرہ) کا ارتکاب بھی نہ ہو، محض دوست احباب کا جمع کرنا مقصود ہو تو اس صورت میں سالگرہ منانے کا کیا حکم ہے؟

جواب

برتھ ڈے (سالگرہ) منانے کا شرعاًکوئی ثبوت نہیں، یہ موجودہ زمانہ میں غیر مسلموں کی ایک رسم ہے، جس میں عموماً طرح طرح کى خرافات شامل ہوتی ہیں، مثلاً: مخصوص لباس پہننا ، موم بتیاں لگاکر کیک کاٹنا ، موسیقی، مردوزن کی مخلوط محفلیں ، تصویر کشی، سالگرہ کی مبارک باد دینا وغیرہ،یہ سب امور ناجائز ہیں،لہذا مسلمانوں کو اس طرح کے فضول رسموں کا اہتمام کرنےاور اس پر پیسہ خرچ کرنے اور اس میں شریک ہونے سے احتراز کرنا چاہیے ۔ البتہ اگر اولاد کی نعمت کے شکریہ کے طور پر مذکورہ بالا خرافات اور خلاف شرع کاموں سے بچتے ہوئے اہل و عیال کو جمع کرکے خوشی کی تقریب منعقد کی جائے تو اس کی گنجائش ہے، تاہم احتیاط بہتر ہے۔لہذا صورت مسئولہ کے مطابق اگرتاریخ پیدائش سے پہلےکیک وغیرہ کاٹ لیا جائے اور اس میں لہو لعب(میوزک وغیرہ) کا ارتکاب بھی نہ ہو، محض دوست احباب کا جمع کرنا مقصود ہوتو اس کی گنجائش ہوگی،البتہ اس سے بھی احتیاط بہتر ہے۔

                 

"عن ابن عمر رضي الله عنهما قال:  قال رسول الله صلی الله علیه وسلم: من تشبه بقوم فهو منهم." (سنن أبي داؤد، ج:2، ص:559)

"(من تشبه بقوم) : أي من شبه نفسه بالكفار مثلا في اللباس وغيره، أو بالفساق أو الفجار أو بأهل التصوف والصلحاء الأبرار. (فهو منهم) : أي في الإثم والخير. قال الطيبي: هذا عام في الخلق والخلق والشعار، ولما كان الشعار أظهر في التشبه ذكر في هذا الباب."(مرقاة المفاتيح شرح مشكاة المصابيح ،کتاب اللباس،الفصل الثانی،ج:9 ،ص:247 )


فتویٰ نمبر : 6158/297/328

دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور