بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم
| لاگ ان | 01/09/2026 |
وسوسہ اورحکایت طلاق سےطلاق کا حکم
سوال
ايک شخص دوسرے شخص کا طلاق نامہ تحریر کر رہا تھا تحریر کرنے کے بعد جب اس کو طلاق نامہ سنارہا تھا تو طلاق کے الفاظ کہتے وقت اپنی بیوی کا خیال آیا ، لیکن اپنی بیوی کو طلاق دینے کی غرض سے طلاق کے الفاظ نہیں کہہ رہا تھا تو کیا اس سے نکاح پر اثر پڑے گا ؟ کیا اس سے طلاق واقع ہوگئی ہےیا نہیں؟
جواب
واضح رہے کہ انسان کے ذہن میں اختیاری اور غیراختیاری طور پرمختلف قسم کے خیالات اور وسوسے آتے رہتے ہیں ان پر کوئی شرعی حکم مرتب نہیں ہوتا۔اسی طرح اگر کوئی شخص ایسے جملے استعمال کرے جن سے کوئی شخص بیوی کو طلاق دیتا ہے اور اس شخص کی غرض صرف حکایت کرنا ہو تو اس طرح طلاق کے الفاظ متکلم کے نکاح پر اثر انداز نہیں ہوتےاور نہ ہی طلاق واقع ہوگی ۔
لہذا صورت مسئولہ کے مطابق طلاق کے الفاظ اور جملے پڑھنا محض حکایت ہےاس سے مذکورہ شخص کے نکاح پر کوئی اثر نہیں پڑے گا اور طلاق واقع نہ ہوگی۔ اگرچہ اس وقت ذہن میں بیوی کا خیال آیا ہو۔
"علم أنه حلف ولم یدر بطلاق، أو غیرہ لغا کما لو شک أ طلق ،أم لا"۔( ردالمحتار على الدر المختار، کتاب الطلاق، باب الصریح، ج:4، ص:508)
"أو كتب ناقلا من كتاب:امرأتي طالق مع التلفظ، أو حكي يمين غيره، فإنه لا يقع أصلا ما لم يقصد زوجته"۔(ردالمحتار على الدر المختار، كتاب الطلاق، باب الصريح، ج:4، ص:512)
"حکی یمین رجل، فلما بلغ إلی ذکرالطلاق خطر ببالہ امرأته إن نوی عند ذکر الطلاق عدم الحکایة واستئناف الطلاق ،وکان موصوله بحیث یصلح للإیقاع علی امرأته یقع ؛لأنه أوقع وإن لم ینو شیئا لا یقع ؛لأنه محمول علی الحکایة"۔(الفتاوی الھندیة ، کتاب الطلاق ، الباب الأول فصل فیمن یقع طلاقه۔۔۔ ج:1، ص:389)