بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

لاگ ان 30/08/2026

دارالافتاء

 دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور
 

قتل عمدکی صورت میں مقتول کےبعض ورثا کا قاتل کو معاف کرنا


سوال

 قتل عمدکی صورت میں اگرمقتول کےورثا قصاص کا مطالبہ کریں،لیکن مقتول کی ماں نے قاتل کومعاف کیا ہو،توکیا قاتل سے قصاص لیا جائے گا یانہیں؟

جواب

واضح رہے کہ جن افراد کے لیے مقتول کی میراث میں اللہ تعالی کی طرف سے حصہ مقرر ہے، ان  جملہ ورثاکومقتول کے قصاص کا اجتماعی حق حاصل ہے،خواہ مرد ہوں یاعورت،لہذا ان مستحقینِ قصاص میں سے اگر کوئی ایک شخص بھی قصاص کو معاف کردے،تو دوسرے ورثاکو قصاص لینے کا حق نہیں ہوگا۔

صورت مسؤلہ کے مطابق اگر  مقتول کے ورثا میں سے اس کی ماں قاتل کو معاف کرے،تو دیگر ورثا کو قصاص لینے کا حق حاصل نہ ہوگی۔

 

قال الله تعالى﴿فَمَنْ عُفِيَ لَهُ مِنْ أَخِيهِ شَيْءٌ فَاتِّبَاعٌ بِالْمَعْرُوفِ وَأَدَاءٌ إِلَيْهِ بِإِحْسَانٍ ذَلِكَ تَخْفِيفٌ مِنْ رَبِّكُمْ وَرَحْمَةٌ فَمَنِ اعْتَدَى بَعْدَ ذَلِكَ فَلَهُ عَذَابٌ أَلِيمٌ ﴾.(سورةالبقرة:178)

‌ويستحق ‌القصاص ‌من ‌يستحق ميراثه على فرائض الله -تعالى- فيدخل فيه الزوج والزوجة وكذاالدية.(الفتاوى الهندية،كتاب الجنايات،الباب الثالث:فيمن يستوفي القصاص،ج:6،ص:11)

إن صالح أحدالشركاء من نصیبه على عوض أو عفا،سقط حق الباقيين عن القصاص.(الفتاوی الهندية،كتاب الجنايات،الباب السادس:فى الصلح والعفووالشهادةفيه،ج:6،ص:26)


فتویٰ نمبر : 6157/297/328

دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور