بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

لاگ ان 01/09/2026

دارالافتاء

 دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور
 

نفسیاتی مریض کا تین مرتبہ طلاق کے الفاظ کہنے سے طلاق کاحکم


سوال

میرا بیٹا نفسیاتی مریض ہے، ڈاکٹر کے پاس گیا تھا، اس نے دوائی لکھی تو میں  نےدو تین دن بعد ٹیلی فون پر اس کا حال پوچھا، تو اس نے بتایا کہ "میڈیسن " میں نشہ زیادہ ہے، جس کی وجہ سے میں صحیح طریقے سے کام نہیں کرپا تا ہوں۔پھر میں ان کے گھرچلی گئی، وہ "بیڈ" پر لیٹاہواتھا، مجھے لگا کہ وہ سویا ہوا ہے،اتنے میں وہ اچانک اٹھ کر بیٹھ گیا، مجھے سلام بھی نہیں کیا اوربیوی سے  شکایتیں شروع کردیں، چونکہ اس کی بیوی بھی موقع پر موجود تھی، اس کو ناگوار گزری اور اس نے بھی باتیں شروع کیں اور وہ تیز ہوگئی، شاید اس کوخیال نہیں تھا کہ اس کے شوہر کو تکلیف ہے۔ جب میں نے یہ صورتحال دیکھی  تو "بہو" کو لیکر باہر نکلی  اور "کچن " میں چلی گئی، تاکہ بات ختم ہو۔اتنے میں پلیٹ ٹوٹنے کی آواز آئی اور وہ اپنے کمرے سے نکل کرکچن میں آگیا، اور غصے سے اپنی بیوی کو تھپڑ مارا۔پھر جاتے وقت ہماری طرف دیکھے بغیر اپنے ساتھ "تین مرتبہ طلاق" کے الفاظ کہے۔یہ ایک خاص دور انیہ ہوتاہے جس میں وہ غصہ ہوتاہے اور کچھ بھی منہ سے نکال دیتا ہے،اور یہ صرف بیوی کے ساتھ نہیں ،بلکہ  بھائی اور  ماموں سے بھی غصے میں آکر الٹ پلٹ بول دیتا ہے۔جب یہ خاص دورانیہ ختم ہوجاتا ہے تو وہ اورطرح کا انسان بن جاتا ہے،ایسا لگتا ہے جیسا  کہ اس نے کچھ کیا ہی  نہ ہو۔سوال یہ ہے کہ  کیا میرے بیٹے کا جاتے وقت ہماری طرف دیکھے بغیر اپنے ساتھ "تین مرتبہ طلاق" کے الفاظ کہنے سے اس کی بیوی کو طلاق واقع ہوئی ہے یا نہیں؟میڈیکل رپورٹ سوال کے ساتھ لف ہے۔

جواب

 شریعتِ مطہرہ کی  رو سے  طلاق واقع ہونے  کےلیے طلاق دینے والے کا اہل ہونا ضروری ہے، اور اہلیت کے لیے دو چیزیں شرط ہیں: 1۔ طلاق دینے والا  عاقل ہو، 2۔ اور بالغ ہو، لہذا اگر کسی شخص  پر ایسی کیفیت طاری ہوجائے  جس  میں اس کی عقل اس طرح  متاثر ہوجائےکہ اس کے اقوال و افعال اس کے اختیارمیں نہ ہوں، تو ایسی حالت میں اس کی  طلاق واقع نہ ہوگی۔

صورتِ مسئولہ کے مطابق اگر مذکورہ شخص واقعی نفسیاتی مریض  ہواوروہ غصہ کی مخصوص  حالت میں اپنے اقوال و افعال پر قابو نہ رکھتا ہو، جیسا کہ اس کی میڈیکل رپورٹ میں درج ہے اور اسی حالت میں اس نے اپنی بیوی سے  طلاق  کے الفاظ کہے ہو ں، تو اس کی طلاق واقع نہ ہوگی، اور وہ عورت بدستور اس کی بیوی رہے گی۔

 

عن أبي هريرة قال: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم: «كل طلاق جائز، ‌إلا ‌طلاق ‌المعتوه المغلوب على عقله»(سنن الترمذي، ‌‌باب ما جاء في طلاق المعتوه، رقم الحديث: 1191)

قلت: وللحافظ ابن القيم الحنبلي رسالة في طلاق الغضبان قال فيها: إنه على ثلاثة أقسام: أحدها أن يحصل له مبادئ الغضب بحيث لا يتغير عقله ويعلم ما يقول ويقصده، وهذا لا إشكال فيه. والثاني أن يبلغ النهاية فلا يعلم ما يقول ولا يريده، فهذا لا ريب أنه لا ينفذ شيء من أقواله. ‌الثالث ‌من ‌توسط ‌بين ‌المرتبتين ‌بحيث ‌لم ‌يصر ‌كالمجنون فهذا محل النظر، والأدلة على عدم نفوذ أقواله.(رد المحتار مع الدر المختار، كتاب الطلاق، مطلب في تعريف السكران وحكمه، ج: 3، ص: 239)


فتویٰ نمبر : 7117/297/324

دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور