بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم
| لاگ ان | 01/11/2026 |
بیوی سے تہ پہ ما خور مور او ترور یے، کہنے کا حکم
سوال
خاوند نے بیوی کو غصے میں کہا "تہ پہ ما خور مور او ترور یے"اور یہ الفاظ دو مرتبہ بولے ہیں کیا اس سے طلاق واقع ہوگی یا نہیں؟
جواب
شرعی نقطہ نظر سے شوہر کا اپنی بیوی کو محرماتِ ابدیہ کے ساتھ تشبیہ دینا ظہار کہلاتا ہے، اور ظہار کے ثابت ہو نےکے لیے حرف تشبیہ کا ہونا ضروری ہے، اگرحرف تشبیہ نہ ہوتو محض نسبت کرنے سے ظہارکا حکم ثابت نہیں ہوتا ،البتہ اگر کسی عرف اورعلاقائی محاورات میں لوگ بیوی کو" ماں،بہن"کہنے سے طلاق مراد لیتے ہوں تو ایسے الفاظ سے طلاق واقع ہوگی۔
صورت مسئولہ میں مذکورہ الفاظ " تہ پہ ما خور مور او ترور یے" ظہار کےالفاظ نہیں، کیونکہ ظہار میں حرف تشبیہ کا استعمال ضروری ہے ، تاہم پٹھان معاشرے کے عام عرف میں چونکہ یہ الفاظ طلاق کے لیے استعمال ہوتے ہیں اس لیے ان الفاظ کے کہنے سےطلاقِ بائن واقع ہوتی ہے۔البتہ چونکہ ایک طلاقِ بائن واقع ہونے کے بعد دوسری بائن اس کے ساتھ جمع نہیں ہوتی، لہذا ایک طلاقِ بائن شمار ہوگی اورتجدیدِ نکاح کے بعد دوبارہ رشتہ قائم کرسکتے ہیں آئندہ شوہر کے پاس دو طلاقوں کا اختیار ہوگا۔
ولا يرد أنت علي حرام على المفتى به من عدم توقفه على النية مع أنه لا يلحق البائن، ولا يلحق البائن لكونه بائنا لما أن عدم توقفه على النية أمر عرض له لا بحسب أصل وضعه.(رد المحتار على الدر المختار،كتاب الطلاق،باب الكنايات،ج:3،ص:306)
لو قال لها أنت أمي لا يكون مظاهرا وينبغي أن يكون مكروها ومثله أن يقول يا ابنتي ويا أختي ونحوه.(الفتاوی الهندية ،کتاب الطلاق، الباب التاسع في الظهار، ج:1، ص:564)
قال العلماء : لا بد في الظهار من التشبيه وإذا قال : أنت أمي لا يكون ظهاراً بل لغواً ، أقول : لا بد من أن يكون طلاقاً بائناً عند النية وقد روي عن أبي يوسف كما في العمدة.(العرف الشذي علی هامش الترمذي،ابواب الطلاق و الرضاع، باب ماجاء في کفارة الظهار، ج:1، ص:357)
(وإن نوى بأنت علي مثل أمي) ، أو كأمي، وكذا لو حذف علي خانية (برا، أو ظهارا، أو طلاقا صحت نيته) ووقع ما نواه لأنه كناية (وإلا) ينو شيئا، أو حذف الكاف (لغا) وتعين الأدنى أي البر، يعني الكرامة. (الدرالمختار على صدر رد المحتار، كتاب الطلاق، باب الظهار،ج:4،ص:131)