بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

لاگ ان 31/08/2026

دارالافتاء

 دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور
 

فاسق شخص کے پیچھے نماز پڑھنا


سوال

نماز کے مذاق اڑانے اور لڑکوں سے غلط باب کرنے(یعنی بد فعلی یا لوطت کرتا ہے ) کیا اس کے پیچھے نماز ہوتی ہے؟

جواب

 اس میں کوئی شک نہیں کہ جماعت کی نماز کسی صحیح راسخ العقیدہ ،اور با عمل عالم دین کے پیچھے پڑھنا افضل ہےاور اس کے برعکس کسی بدعتی،جاہل اور فاسق فاجر کی اقتدا میں نماز پڑھنے کی وہ قدر وقیمت برقرار نہیں رہتی،اس لیے فقہائے کرام نے ایسے شخص کو مستقل طور پر امام بنانا مکروہ تحریمی قرار دیا ہے ۔

 لہٰذا صورت مسئولہ میں اگر بدعتی امام نماز کے فرائض وواجبات کی رعایت رکھتے ہوئےنماز پڑھائےتو اس کے پیچھے نماز ہوجائے گی ،لیکن ایسے امام کی اقتدا میں مستقلا ًنماز پڑھنے سے احتراز کرنا چاہیے،البتہ اگر کسی موقع پر فتنہ وفساد کا اندیشہ ہویا کسی مصلحت وغیرہ کے پیش نظر اس کے پیچھے نماز پڑھنےکی نوبت آئے  تواس کی گنجائش ہے،تاہم اگر وہ ایسی بدعات کا مرتکب ہوجو کفر کے زمرے میں آتے ہوں تو ایسے شخص کی اقتدا سے احتراز لازم ہے۔

 

قال المرغینانی:تجوز الصلوٰۃ خلف ھوی وبدعۃ،ولا تجوز خلف الرافضی والجھمی والقدری والمشبھۃومن یقول بخلق القرآن،وحاصلہ:ان کان ھوی لا یکفربہ صاحبہ،تجوز الصلوٰۃ خلفہ مع الکراھۃ،والا فلا۔۔۔ولو صلی خلف مبتدع أو فاسق فھو محرز ثواب الجماعۃ،لکن لا ینال مثل ما ینال خلف تقی۔(الفتاوی الھندیۃ،کتاب الصلوٰۃ،الباب الخامس،الفصل الثالث،ج:1،ص:141)


دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور