بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

لاگ ان 02/11/2026

دارالافتاء

 دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور
 

قرض خواہ کا مقروض کو زکوۃ کی رقم دے کر قرض کی مد میں واپس لینا


سوال

اگر کسی مزدور پر تاوان لازم ہوجائے تو بعض لوگ یہ حیلہ کرتے ہیں کہ اس  کو زکوۃ کی رقم دیتے ہیں اور پھر وہ وہی رقم تاوان  کی مد میں واپس کرتا ہے،کیا یہ جائز ہے؟

جواب

زکوۃ کی ادئیگی کے لیے ضروری ہے کہ زکوۃ کی رقم مستحق کی ملکیت میں دی جائے۔لہذا اگر کوئی یہ حیلہ کرے کہ مقروض کو   زکوۃ کی رقم ملکیتاً دے اورپھر اپنے قرض کا مطالبہ کرے تو یہ درست ہے۔  

صورت مسئولہ میں اگر مستحق مزدور زکوۃ  کی  رقم پرقبضہ کرکےاس کامالک بن جائے،اور پھر  وہ یہ رقم تاوان کی مد میں دے دے تو یہ جائز ہے۔

 

"واعلم أن أداء الدين عن الدين والعين عن العين، وعن الدين يجوز وأداء الدين عن العين، وعن دين سيقبض لا يجوز. وحيلة الجواز أن يعطي مديونه الفقير زكاته ثم يأخذها عن دينه(قوله وحيلة الجواز) أي فيما إذا كان له دين على معسر، وأراد أن يجعله زكاة عن عين عنده أو عن دين له على آخر سيقبض (قوله أن يعطي مديونه إلخ) قال في الأشباه وهو أفضل من غيره أي لأنه يصير وسيلة إلى براءة ذمة المديون."(رد المحتار على الدر المختار، كتاب الزكوة، ج:2، ص:271)


فتویٰ نمبر : 10371/297/321

دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور