بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم
| لاگ ان | 01/11/2026 |
گھرسےبغیراجازت نکلنےپر طلاق معلق کرکےبعدمیں ہمیشہ کےلئے اجازت دینا
سوال
ایک شخص نے بیوی کو کہا تھا’’ زما د اجازت نہ بغیر د کورا اونہ وزے گنی یو دوا درے ‘‘یعنی میری اجازت کے بغیرگھر سے نہیں نکلناورنہ ایک ،دو ،تین ۔ بیوی ابھی تک شوہر کی اجازت کے بغیر گھر سے نہیں نکلی۔ اب شوہر کسی دور دراز مقام پر کام کے لیے گیا ہوا ہے، اورعورت کوضروری کام کے لئے باہرنکلنا پڑتا ہے۔ توکیا شوہر طلاق سے بچنے کے لیے بیوی کو ہمیشہ کے لیے اجازت دے سکتا ہے کہ وہ ضرورت کے وقت گھر سے باہر جا سکے؟
جواب
ایک،دو،تین کہنے سے اگر طلاق کی نیت ہو یا مذاکرہ طلاق ہو یا غصہ کی حالت ہو ،یاوہاں کے عرف میں ’’ایک،دو،تین‘‘کے الفاظ جب بیوی سے بولے جائیں تو ا س سے طلاق ہی مراد لی جاتی ہو،تو ان صورتوں میں ان الفاظ سے طلاق واقع ہوجاتی ہے ۔نیزاگر کوئی شخص طلاق کو بیوی کے کسی کام کے بغیر اجازت کرنے کے ساتھ مشروط کر دےاور بعد میں شوہر بیوی کو ہمیشہ کے لیے اس کام کی اجازت دیدے، تو اس کام کے کرنے سے طلاق واقع نہ ہوگی۔
صورت مسئولہ میں شوہرنےگھر سے بغیراجازت نکلنےپر ایک،دو،تین کہا ہے اس میں ایک،دو،تین اعداد کو طلاق کے لفظ کے بغیر ذکرکیاہے،لیکن اگر اس علاقہ کے عرف میں،بیوی کو غصہ میں’’ ایک،دو ،تین‘‘کہنے سےطلاق مراد لی جاتی ہو، توبیوی کےبغیر اجازت نکلنےسے تین طلاقیں واقع ہوں گی،البتہ اگر شوہر مستقل طور پر نکلنے کی اجازت دیدےتواس کے بعد بیوی اگر گھرسےنکلے گی،تو طلاق واقع نہ ہوگی۔
رجل قال لامرأته ترايكى وتراسه او قال تویکی توسه قال ابو القاسم الصفار: لا يقع شيئ، قال صدر الشهيد: يقع اذا نوی، قال وبه يفتى. قال القاضي وينبغي ان يكون الجواب على التفصيل: ان كان ذالك في حال مذاكرة الطلاق أو في حال الغضب يقع الطلاق، وان لم يكن لا يقع الا بالنية كما قال بالعربية أنت واحدة. (خلاصة الفتاوى، كتاب الطلاق، الفصل الثاني في الكنايات، ج: 2، ص: 98)
وإذا أضافه إلى شرط وقع عقيب الشرط مثل أن يقول لامرأته إن دخلت الدار فأنت طالق ".(الفتاوى الهندية،، كتاب الطلاق، باب الباب الرابع في الطلاق بالشرط ونحوه،الفصل الثالث، ج:1، ص:488)
(لا تخرجي) بغير إذني أو (إلا بإذني) أو بأمري أو بعلمي أو برضاي (شرط) للبر (لكل خروج إذن)إلا لغرق أو حرق أو فرقة، ولو نوى الاذن مرة دين، وتنحل يمينه بخروجها مرةً بلا إذن، ولو قال: كلما خرجت فقد أذنت لك سقط إذنه، ولو نهاها بعد ذلك صح عند محمد، وعليه الفتوى. (الدر المختار شرح تنوير الأبصار،كتاب الأيمان، باب اليمين في الدخول والخروج والسكنى،ج :5،ص:550،551)