بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

لاگ ان 01/09/2026

دارالافتاء

 دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور
 

بینک میں سافٹ ویئر اور آئی ٹی کی ملازمت کرنا


سوال

میں خلیجی ممالک میں ایک غیر سرکاری کمپنی میں ملازمت کرتا ہوں، جو سافٹ ویئر اور آئی ٹی کے شعبے میں خدمات فراہم کرتی ہے۔ میرا بنیادی کام آئی ٹی انفراسٹرکچر، سرورز، اور دیگر آئی ٹی حل فراہم کرنے تک محدود ہے۔ یہ کمپنی مختلف صارفین کے لیے اپنے ملازمین کو منصوبہ جات (Projects) پر کام کرنے کے لیے بھیجتی ہے۔ حال ہی میں، مجھے ایک بینک کے پروجیکٹ پر کام کرنے کے لیے بھیجا گیا ہے۔ یہ بینک تجارتی نوعیت کا نہیں ہے بلکہ اس کا مقصد چھوٹے اور درمیانے درجے کے منصوبوں کو مالی امداد فراہم کرنا ہے۔ اس بینک کے گاہکوں کے یہاں اکاؤنٹس نہیں ہوتے بلکہ یہ اپنے تمام مالی معاملات تجارتی بینکوں کے ذریعے انجام دیتا ہے۔ سوالات: 1. کیا میرا اس بینک میں بطور پروجیکٹ ملازم کام کرنا جائز ہے؟ واضح رہے کہ میرا کام صرف آئی ٹی سرورز اور حل فراہم کرنے تک محدود ہے اور سود کا کوئی دخل نہیں۔ 2. حال ہی میں اس بینک نے مجھے اپنی کمپنی چھوڑ کر براہِ راست ان کا ملازم بننے کی پیشکش کی ہے۔ میری نیت کسی قسم کے فرار یا کمپنی کے معاہدے سے انکار کی نہیں ہے، بلکہ مکمل ضابطے کے تحت باقاعدہ استعفیٰ دینے کے بعد اس بینک میں ملازمت اختیار کرنے کا سوال ہے۔ کیا میرے لیے اس بینک میں براہِ راست ملازمت اختیار کرنا شرعی طور پر جائز ہوگا، جب کہ میرا کام مذکورہ بالا تفصیلات کے مطابق ہوگا؟ آپ سے درخواست ہے کہ ان سوالات کا تفصیلی اور واضح شرعی جواب عطا فرمائیں تاکہ میں اپنے پیشہ ورانہ امور کو اسلامی تعلیمات کے مطابق جاری رکھ سکوں۔ بنک کس بنیاد پر کام کرتا ہے اسکی تفصل یہ ہے:

الشريك المفضل في تمويل المشاريع و المؤسسات الصغيرة و المتوسطة توافقا مع أهداف و خطط التنمية الوطنية. الرسالة تقديم خدمات مالية لمشاريع ذات قيمة مضافة في مختلف القطاعات الاقتصادية من خلال خبراتنا وتميزنا في التمويل التنموي. أهداف البنك - تقديم الدعم الفني والمالي للمشاريع  - دعم مشاريع التشغيل الذاتي  - المساهمة في تحقيق الشمول المالي - تنمية قطاع المشاريع الصغيرة والمتوسطة۔

جواب

جن بینکوں میں سودی معاملات ہوتے رہتے ہیں ان بینکوں میں  وہ ملازمتیں جن کا تعلق براہ راست  سودی معاملات کے ساتھ ہو یا سودی معاملات میں تعاون کرنا پڑتا ہو ، تو وہ ملازمت اختیار کرنا جائز نہیں ، تاہم جن شعبوں کا تعلق براہ راست سودی معاملات سے نہ ہو،  ان میں  ملازمت کرنے کی گنجائش پائی جاتی ہے ۔

 صورت مسئولہ کے مطابق اگر  سائل  بینک میں  صرف  آئی ٹی سرورز  اورآئی ٹی مسائل کا حل فراہم کرتا ہو اور اس کا  سودی معاملات کرنے ،  لکھنے  اور   محفوظ کرنے سےبراہ راست  کوئی تعلق نہ ہو تو بینک میں اس طرح ملازمت کرنے کی گنجائش ہے، تاہم   بینک میں آئی ٹی کے حوالے  سے ملازمت اختیار   کرنے سے  سودی معاملات لکھنے اور محفوظ کرنے کا قوی اندیشہ ہےجس  سے احادیث مبارکہ میں منع  آیا ہے، لہذا  موجودہ ملازمت   پر قناعت کرکے بینک کی ملازمت  سے احتراز  کرنا بہتر ہے ۔

 

عن جابر قال:لعن رسول الله صلى الله عليه وسلم آكل الربا وموكله وكاتبه وشاهديه وقال هم سواء۔ (صحيح مسلم،کتاب البيوع،باب الربوا، ج2، ص28)

عن جابر رضي الله عنه قال: «لعن رسول الله صلى الله عليه وسلم ‌آكل ‌الربا ‌وموكله ‌وكاتبه وشاهديه، وقال: (هم سواء) » رواه مسلم. قوله (وكاتبه وشاهديه) : قال النووي: فيه تصريح بتحريم كتابة المترابيين والشهادة عليهما وبتحريم الإعانة على الباطل (وقال) ، أي: النبي صلى الله عليه وسلم (هم سواء) ، أي: في أصل الإثم، وإن كانوا مختلفين في قدره۔ ( مرقاۃ المفاتیح، باب الربا، الفصل الأول، ج: 5، ص:1916)

"الأمور بمقاصدها"يعني أن الحكم الذي يترتب على أمر يكون على مقتضى ما هو المقصود من ذلك الأمر۔ (شرح المجلةلخالد الأتاسي،المقالة الثانية، المادة: 2، ج: 1،ص: 13)


فتویٰ نمبر : 6156/297/328

دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور