بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

لاگ ان 31/08/2026

دارالافتاء

 دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور
 

داڑھی منڈوانے والے کے پیچھے مستقل نماز پڑھنا


سوال

میں ایک کمپنی میں کام کرتا ہوں، اس کمپنی نے ایک قاری کو امام مقرر کیا ہے جوکہ داڑھی منڈاتا ہے، اور وہ اس کمپنی میں مستقل امام ہے، اب سوال یہ ہے کہ اس امام کے پیچھے مستقل نماز پڑھنا چاہئے یا علیحدہ نماز پڑھنا چاہئے؟

جواب

داڑھی رکھنا ہرمسلمان پر واجب ہےاور داڑھی منڈوانا یا ایک مشت سے کم رکھنا گناہِ کبیرہ اور حرام ہے۔ گناہ کبیرہ اور حرام کے ارتکاب سے آدمی فاسق بن جاتا ہے، اور فاسق آدمی کی امامت مستقل طور پر صحیح نہیں، البتہ انفراداً نماز پڑھنے سے ایسے شخص کی اقتدا میں نماز پڑھنا بہتر ہے۔ لہذا صورت مسئولہ کےمطابق اگر کہیں قریب دوسری ایسی مسجد نہ ہو جس میں داڑھی رکھنےوالانیک صالح امام ہوتوپھراسی امام کی اقتدا میں ہی نماز ادا کرلینی چاہیے۔ 

                 

"وفي الفتاوى ‌لو ‌صلى ‌خلف ‌فاسق أو مبتدع ينال فضل الجماعة لكن لا ينال كما ينال خلف تقي ورع لقوله صلى الله عليه وسلم «من صلى خلف عالم تقي فكأنما صلى خلف نبي»."(البحرالرائق، كتاب الصلاة، باب الإمامة، ج: 1، ص:610)

"وأما الاخذ منها وهي دون ذلك كما يفعله ‌بعض ‌المغاربة، ومخنثة الرجال فلم يبحه أحد، وأخذ كلها فعل يهود الهند ومجوس الأعاجم."(الدّرالمختار، كتاب الصوم، باب ما يفسد الصوم و ما لا يفسد، ج:3، ص:397-398)


فتویٰ نمبر : 10349/297/321

دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور