بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

لاگ ان 01/09/2026

دارالافتاء

 دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور
 

بینک سے سود میں ملی ہوئی رقم سے زمین خریدنا اور مسجد کی رجسٹریشن فیس جمع کرانا


سوال

میری سعودی عرب میں ملازمت تھی۔ ہمارے ملک کا  جو شہری باہر کسی ملک میں ملازمت یا کسی بھی غرض سے موجود ہو، اس کو بینک میں رقم ڈالنے کے لیےNon Resident Indians))اکاؤنٹ کھولنا پڑتا ہے، میں نےبھی اپنے ملک کے بینک میں اکاؤنٹ کھولا تھا، میری ملازمت کی تنخواہ اس میں آتی تھی، اس پر بینک کی طرف سے جو سود دیا جاتا تھا وہ تیرہ سال سے اس میں جمع ہو رہا تھا۔ سود کی یہ رقم میں نے درجِ ذیل جگہوں پر خرچ کی ہے:(1 ) ایک زمین مکان تعمیر کرنے کے لئے خریدی تھی، رجسٹریشن فیس پانچ لاکھ روپے تھی، جو انٹرسٹ کی رقم سے ادا کی گئی۔ پھر چند سال بعد زمین پر مکان تعمیر کرتے وقت گورنمٹ سےایک ڈاکو منٹ (BBMP APPROVED PLAN )کی ضرورت پڑی،جس کو جاری کرانے کے لیے گورنمنٹ فیس چھ لاکھ روپے ادا کرنا تھا، وہ بھی انٹرسٹ کی رقم سے ادا کی گئی، اوریہ رقم سرکاری محکمہ تک گئی۔ نیز کورٹ میں میرے خلاف اس زمین پر بے جا مقدمات ڈالے گئے اس کے لیے میں نے کورٹ میں وکلاء وغیرہ کے خرچے کوان پیسوں سے ادا کیا۔ (2) ایک صاحب نے مسجد کے لیے جگہ وقف کی تھی، چارسال پہلے مسجد کی جگہ مسجد کے ٹرسٹ کے نام پررجسٹر کی گئی، اس کے لیے رجسٹریشن فیس چھ لاکھ روپے بھی انٹرسٹ کے پیسوں سے ادا کی گئی۔ اب سوال یہ ہے کہ شرعی اعتبار سے مذکورہ بالا جگہوں پر انٹرسٹ کی رقم خرچ کرنا جائز تھا یا نہیں؟ اگر جائز نہیں تھا تو کیا یہ سب میرے ذمہ قرض ہے جو مجھ کو جلدازجلد بغیرثواب کی نیت کے ادا کرنا ہوگا؟ نیز کن افراد کو یہ رقم ادا کریں گے؟ اور کیا کہہ کر دیں گے؟

جواب

واضح رہے کہ سودی بینک میں رقم رکھنےپر بینک کی طرف سے جو منافع ملتا ہے وہ سود ہونے کی وجہ سے ناجائز اور حرام ہے،اورسودی رقم کو جس طرح لیناحرام ہے اسی طرح اس کا استعمال بھی  حرام ہے۔البتہ اگر کسی شخص نے یہ رقم وصول کر لی ہو اور ذاتی استعمال میں لائی ہوتو پھراتنی ہی رقم کسی ضرورت مندمستحقِ زکاۃکوبغیر نیت ثواب کے دینا لازم ہوگا۔

مسجد خداکا مقدس اور پاکیزہ گھر ہےاور ثواب کی نیت سے اس میں رقم خرچ کی جاتی ہے،ثواب کے حصول کے لیے مال کا حلال ہونا اور ہر قسم کے خبث سے پاک ہونا ضروری ہے،اس لیےمسجدکےکسی بھی مصرف میں حرام کمائی خرچ کرنا جائز نہیں، لہذااگر مسجد میں حرام مال خرچ کیا گیا ہو تواتنی رقم فقراءاورغرباءپر بغیر نیت ثوا ب کے  صدقہ کردی جائے ۔

صورت مسئولہ کے مطابق سائل نےاس سودی رقم سے جتنی زمین خریدی ہے اور اس پر مختلف اوقات میں اس سودی رقم سے خرچہ کیا ہےتو اس کے بقدررقم بغیر نیت ثواب کے صدقہ کرے، اس سے اس کا ذمہ فارغ ہوگا،اسی طرح جتنی رقم سے مسجد کی رجسٹریشن فیس جمع کی ہے تواب مسجد کو اس حرام مال سے پاک کرنے کے لیےبھی یہ صورت اختیار کی جائے کہ اتنی ہی رقم بلا نیت ثواب کے صدقہ کرے۔

 

"والحاصل: أنه إن علم أرباب الأموال وجب رده عليهم، و إلا فإن علم عين الحرام فلا يحل له، وتصدق به بنية صاحبه." (ردالمحتار على الدرالمختار، كتاب البيوع، مطلب فيمن ورث مالاً حراماً، ج:5، ص:99)

"والسبيل في المعاصي ردها وذالك ههنا برد المأخوذ إن تمكن من رده بأن عرف صاحبه، وبالتصدق به إن لم يعرفه."(الفتاوی الهندیة، ج:5، ص: 349)

"قال تاج الشريعة: أما لو أنفق في ذلك ‌مالا ‌خبيثا ومالا سببه الخبيث والطيب فيكره؛ لأن الله تعالى لا يقبل إلا الطيب، فيكره تلويث بيته بما لا يقبله. اهـ. شرنبلالية."(رد المحتار علی الدرالمختار، کتاب الصلاۃ،باب مایفسد الصلاۃ ومایکرہ فیھا،ج:1، ص:658)


فتویٰ نمبر : 6188/297/328

دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور