بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

لاگ ان 01/09/2026

دارالافتاء

 دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور
 

بچوں کی ویڈیو بنانا


سوال

آج کل لوگ جو موبائل میں بچوں کی ویڈیو بناتے ہیں  کیا یہ جائز ہے ؟ اور موبائل میں تصویر کھینچنا اورڈیجیٹل کیمرے سے تصویر کھینچ کر نکالنے کا  کیاایک ہی حکم ہے؟

جواب

واضح رہے کہ سکرین پر ظاہر ہونے والی ڈیجیٹل تصویر، تصویر ہی کی ایک جدید قسم ہے، یہی وجہ ہے کہ عرف میں بھی اس کو تصویر کہا جاتا ہے۔ لہذا ڈیجیٹل تصویر کے  تصویر ہونے سے انکار نہیں کیا جا سکتا ۔ اور  تصویر کے بارے میں جو وعید وارد ہے وہ  ہر قسم کی  تصویر کو شامل ہے۔ لہذا  ڈیجیٹل    کیمرے  کے ذریعے  بھی جاندار کی تصویر بنانا ناجائز ہے۔

صورت مسئولہ کے مطابق موبائل فون کے ذریعے نابالغ بچوں کی تصویر کھینچنا بھی تصویر  ہی کے حکم میں داخل ہے، اور اس کی بھی وہی ممانعت  ہے جو کسی دوسرے جاندار کی تصویر کھینچنے کی ہے۔

 

عن عائشة زوجة النبي صلى الله عليه وسلم قالت: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم: إن أصحاب هذه الصور يوم القيامة يعذبون، فيقال لهم أحيوا ما خلقتم وقال: إن البيت الذى فيه هذه الصور لا تدخله الملائكة.(صحيح البخاري، كتاب البيوع، باب التجارة فيما يكره لبسه للرجال و النساء، ج:2 ، ص:56)

وظاهر كلام النووي في شرح مسلم، الإجماع على تحريم تصويره صورة الحيوان فإنه قال: قال أصحابنا و غيرهم من العلماء: تصوير صور الحيوان حرام شديد التحريم وهو من الكبائر لأنه متوعد بهذا الوعيد الشديد المذكور في الأحاديث. (البحر الرائق، باب ما يفسد الصلاة وما يكره فيها، ج:2، ص:48)


فتویٰ نمبر : 6140/297/328

دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور