بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم
| لاگ ان | 31/08/2026 |
آن لائن ویڈیو لنک کے ذریعے نکاح کرنے کا حکم
سوال
اگر کسی کا نکاح آن لائن ویڈیو کال (online video call) پر ہو، تو کیا اس طرح نکاح کرنے سے نکاح منعقد ہوگا یا نہیں؟
جواب
واضح رہے کہ عقد نکاح میں عاقدین کے ایجاب وقبول کے لیے مجلس کا ایک ہونا شرط ہے ،لہذا مجلس عقد میں خود عاقدین یا ان کے وکیل کا ہونا ضروری ہے۔
صورت مسئولہ میں چونکہ آن لائن ویڈیو لنک پر ایجاب وقبول کرنے والے عاقدین بذاتِ خود ایک مجلس عقد میں موجود نہیں ہوتے، اس لئے آن لائن ویڈیو لنک کے ذریعے نکاح جائز نہیں، تاہم اگر ایک عاقد مجلس عقد میں موجود کسی شخص کو اپنا وکیل بنادے اور پھر وہ وکیل اس کی طرف سے ایسی مجلس میں گواہوں کی موجودگی میں ایجاب یا قبول کرلے جس میں دوسرا عاقد بذاتِ خود یا اس کا وکیل موجود ہو تو اس صورت میں نکاح منعقد ہوگا ۔
ومن شرائط الايجاب والقبول اتحاد المجلس.قال العلامة الشامی: قوله (اتحاد المجلس) قال فی البحر: فلو اختلف المجلس لم ينعقد.(ردالمحتارعلی الدرالمختار،کتاب النکاح، مطلب بارسال الکتابة، ج:4،ص:76)
ثم النكاح كما ينعقد بهذه الألفاظ بطريق الأصالة ينعقد بها بطريق النيابة، بالوكالة، والرسالة؛ لأن تصرف الوكيل كتصرف الموكل، وكلام الرسول كلام المرسل، والأصل في جواز الوكالة في باب النكاح ما روي أن النجاشي زوج رسول الله صلى الله عليه وسلم أم حبيبة رضي الله عنها فلا يخلو ذلك إما أن فعله بأمر النبي صلى الله عليه وسلم أو لا بأمره، فإن فعله بأمره فهو وكيله، وإن فعله بغير أمره فقد أجاز النبي صلى الله عليه وسلم عقده والإجازة اللاحقة كالوكالة السابقة.(بدائع الصنائع، كتاب النكاح، فصل ركن النكاح، ج:2،ص:231)