بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

لاگ ان 02/09/2026

دارالافتاء

 دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور
 

استاد کا طلبہ سے جرمانہ لے کر ذاتی استعمال میں لانا


سوال

کیا کسی استاد کے لیےیہ جائز ہے کہ طلبا سے جرمانہ لے کر ذاتی استعمال میں لائے؟شرعی حکم واضح کریں۔

جواب

اگراستادتادیب کی نیت سے طلبہ سے مالی جرمانہ وصول کرےتوشرعا ً اس کی گنجائش ہے،البتہ استاد خود اس کو استعمال نہیں کرسکتا بلکہ بچوں کی اصلاح کے بعدان کو واپس لوٹا دے گا،اور اگرجرمانہ کی واپسی کی وجہ سےجرم کا سد باب مشکل ہو تو ایسی صورت میں اس رقم کو رفاہ عامہ میں خرچ کرنے کی گنجائش ہے، لیکن خود کسی صورت استعمال نہیں کرسکتا۔

                 

"وأفاد ‌في ‌البزازية أن معنى التعزير بأخذ المال على القول به إمساك شيء من ماله عنه مدة لينزجر ثم يعيده الحاكم إليه لا أن يأخذه الحاكم لنفسه أو لبيت المال كما يتوهمه الظلمة إذ لا يجوز لأحد من المسلمين أخذ مال أحد بغير سبب شرعي وفي المجتبى لم يذكر كيفية الأخذ وأرى أن يأخذها فيمسكها فإن أيس من توبته يصرفها إلى ما يرى."(ردالمحتار علی الدرالمختار کتاب الحدود،باب التعزیر،ج: 6،ص:106)

"يجوز التعزير بأخذ المال وهو مذهب أبي يوسف وبه قال مالك، ‌ومن ‌قال: ‌إن ‌العقوبة ‌المالية ‌منسوخة فقد غلط على مذاهب الأئمة نقلا واستدلالا وليس بسهل دعوى نسخها.وفعل الخلفاء الراشدين وأكابر الصحابة لها بعد موته - صلى الله عليه وسلم - مبطل لدعوى نسخها، والمدعون للنسخ ليس معهم سنة ۔ولا إجماع يصحح دعواهم."(معين الحكام فيما يتردد بين الخصمين من الأحكام،  ص195:)


فتویٰ نمبر : 6142/297/328

دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور