بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم
| لاگ ان | 01/09/2026 |
طلباء کا اپنا نسبتی نام مدرسہ کی طرف منسوب کرنا
سوال
طلباء جب مدارس سے فارغ ہوتے ہیں تو اپنے آپ کو اس مدرسے کی طرف منسوب کرنے کے لیے اس مدرسےکا نام اپنے نام کے ساتھ لکھتے ہیں جیسے عثمانی،حقانی،فاروقی وغیرہ اب بعض مدارس کا نام کسی قومی نسبت کے ساتھ ملتبس ہوتاہے جیسے عثمانی،فاروقی،صدیقی جس میں اس بات کاالتباس ہوتاہے کہ حضرت عثمانؓ، حضرت فاروقؓ یا حضرت ابوبکر صدیق ؓ کے نسب سے ہے،جب کسی مدرسہ کا نام کسی قومی نسبت کے ساتھ ملتبس ہوتوطلباء کے لیےاپنے نام کے ساتھ اس کا لگانا جائز ہے یا نہیں؟
جواب
عقیدت و محبت کے اظہار کے لیے کسی صحابی یا بزرگ کی طرف نسبت کرنے میں کوئی حرج نہیں ،لیکن اگر کوئی ان کی طرف نسبت نسب کی وجہ سے کرتا ہواوروہ ان کی اولاد میں سے نہ ہو تو ایسا نسبت جائز نہیں نیزاگرعرف میں کسی نسبت سے نسب کے ساتھ التباس آتا ہواوروہ خلاف حقیقت ہو تواس سے احتراز کرنا چاہیئے۔
صورت مسئولہ کے مطابق جوطلباءیا فضلا اپنے نام کے ساتھ عثمانی ،حقانی ،فاروقی وغیرہ مدرسہ کے ساتھ نسبت ،عقیدت اور محبت کی وجہ سے رکھتے ہیں اورعرف میں بھی وہ اسی کے ساتھ شہرت رکھتے ہوں تو ایسا نسبتی نام رکھنے میں کوئی حرج نہیں۔
قال الله تعالی:﴿ادْعُوهُمْ لِآبَائِهِمْ هُوَ أَقْسَطُ عِندَ اللَّهِ ۚ فَإِن لَّمْ تَعْلَمُوا آبَاءَهُمْ فَإِخْوَانُكُمْ فِي الدِّينِ وَمَوَالِيكُمْ ۚ وَلَيْسَ عَلَيْكُمْ جُنَاحٌ فِيمَا أَخْطَأْتُم بِهِ وَلَٰكِن مَّا تَعَمَّدَتْ قُلُوبُكُمْ ۚ وَكَانَ اللَّهُ غَفُورًا رَّحِيمًا﴾.[ الأحزاب : 5،4]
"وظاهر الآية حرمة تعمد دعوة الإنسان لغير أبيه، ولعل ذلك فيما إذا كانت الدعوة على الوجه الذي كان في الجاهلية، وأما إذا لم تكن كذلك كما يقول الكبير للصغير على سبيل التحنن والشفقة يا ابني وكثيرا ما يقع ذلك فالظاهر عدم الحرمة".(روح المعاني ،سورة الاحزاب، الآية :5،ج:11،ص:147)
عن سعد رضي الله عنه، قال سمعت النبي صلى الله عليه وسلم، يقول: «من ادعى إلى غير أبيه، وهو يعلم أنه غير أبيه، فالجنة عليه حرام» ۔(صحیح البخاری ، باب من ادعى إلى غير أبيه،رقم الحدیث:6766،ج:8،ص:156)
وقوله: {فإن لم تعلموا آباءهم فإخوانكم في الدين ومواليكم} : أمر الله تعالى برد أنساب الأدعياء إلى آبائهم، إن عرفوا، فإن لم يعرفوا آباءهم، فهم إخوانهم في الدين ومواليهم، أي: عوضا عما فاتهم من النسب.(تفسير ابن كثير،سورة الاحزاب 5،ج:6،ص:378)