بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم
| لاگ ان | 31/10/2026 |
بائع کا مبیع کی مقدارمیں اپنی طرف سے اضافہ کرکے اس کا عوض مانگنا
سوال
ایک دکاندار شیشہ بیچتا ہے اگر کوئی گاہک اس سے 13 فٹ شیشہ لینا چاہتا ہے تو 15 فٹ شیشہ کاٹ کر دیتا ہے اور پیسے بھی 15 فٹ کے لیتا ہے اگر کوئی 15 فٹ لینا چاہے تو 18 فٹ کاٹ کر اس کا حساب لگا کر بیچتاہے اگر کوئی 18 فٹ لینا چاہے تو وہ 21 فٹ کاٹ کر اس حساب سے پیسے لیتا ہے دکاندار کے پاس شیشہ کے بڑےبڑے شیڈ ہیں وہ اس شیڈ سے کاٹ کربیچتا ہے تو کیا دکاندا رکے لیے ایسا کرنا جائز ہے؟
جواب
جب بائع اور مشتری کے درمیان عقد کے وقت مبیع کی مقدار ، قیمت وغیرہ متعین ہو جائے تو بائع اتنی مقدار میں مبیع اور مشتری رقم دینے کا پابند ہو گا۔البتہ اگر بائع اپنی طرف سے مبیع کی مقدار میں اضافہ کرتے ہوئے اس کا عوض مانگے اور مشتری اس پر راضی ہو تو اس میں کوئی حرج نہیں۔
صورت مسئولہ کے مطابق اگر عاقدین کے مابین 13یا15 فٹ مقرر ہو جائے اور قیمت بھی متعین ہو جائے،پھر بائع اپنی طرف سے کچھ فٹ زیادہ کرے تو ایسی صورت میں اگر مشتری یہ زیادہ فٹ لینے اور اس کے بدلے زیادہ رقم دینے پر راضی ہو تو اس میں کوئی حرج نہیں،اور اگر مشتری زیادہ قیمت دینے پر راضی نہ ہو تو بائع عقد کے مطابق اتنی مقدار میں ہی شیشہ دینے کا پابند ہو گا ،اور اگر بائع اضافی دو فٹ کے بدلے رقم نہ لے تو اس صورت میں یہ اس کی طرف سے تبرع شمار ہو گا۔
أما تعريفه فمبادلة المال بالمال بالتراضي.(الفتاوی الهندية،كتاب البيوع،ج:3،ص:2)
وإن زاد شيء عليه فهو للبائع؛ لأن البيع وقع على مقدار معين والقدر ليس بوصف.(البحرالرائق،كتاب البيع، باب من اشترى عنب كرم على أنه ألف من فظهر أنه تسع مائة، ج:5، ص:311)