بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم
| لاگ ان | 31/10/2026 |
بیوی اور بیٹیوں کا میراث سےدستبردار ہونا
سوال
اگر جرگہ کے سامنے میت کے ورثا میں سےاس کی بیوی اور بیٹیاں یہ کہیں کہ ہم میراث میں اپنا حصہ نہیں لینا چاہتے ہمارے حصے ہمارے بھائیوں کو دیے جائیں تو کیا ان کے کہنے سے وہ میراث سے محروم ہوں گے یا نہیں؟
جواب
میراث کی تقسیم سے پہلے کسی وارث کا اپنے حصے سے بلاعوض دستبردار ہوجانا شرعا معتبر نہیں کیونکہ میراث ایک غیر اختیاری حق ہے ،جو ساقط کرنے سے ساقط نہیں ہوسکتا، چنانچہ میراث کی تقسیم سے پہلے کسی وارث کا اپنے شرعی حصہ کو بلا عوض معاف کرنا معتبر نہیں ۔تاہم اگر ترکہ تقسیم ہوجائے اور کوئی وارث اپنے حصے پر قبضہ کرنے کے بعد کسی کو دینا چاہے،تو شرعا اس میں کوئی حرج نہیں ہے۔
صورت مسئولہ کے مطابق میت کی بیوی اور بیٹیوں کا جرگہ کے سامنے بلاعوض میراث سےدستبردار ہونا معتبر نہیں البتہ اگر وہ اس کے عوض کچھ مال لے لیں یا میراث کی تقسیم کے بعد اپنے حصوں پر قبضہ کرکے بھائیوں کو دینا چاہیں تواس میں کوئی حرج نہیں۔
الإرث جبري لا يسقط بالإسقاط.(رد المحتار علی الدر المختار،کتاب الدعوی ،باب التحالف،ج:8،ص:114)
ولو قال تركت حقي من الميراث أو برئت منها ومن حصتي لا يصح وهو على حقه، لان الإرث جبري لا يصح تركه.(رد المحتار علی الدر المختار،کتاب الدعوی،باب دعوی النسب،ج:8،ص:202)
(وإن أخرجت الورثةأحدهم عن عرض أو عقار بمال، أو عن ذهب بفضة، أو بالعكس) أي عن فضة بذهب (صح قل، أو كثر) يعني قل ما أعطوه أو كثر؛ لأنه يحمل على المبادلة؛ لأنه صلح عن عين ولا يمكن حمله على الإبراء إذ لا دين عليهم ولا يتصور الإبراء عن العين.(تبيين الحقائق شرح كنز الدقائق، فصل دين بينهما صالح أحدهما عن نصيبه على ثوب لشريكه ،ج:5،ص:49)